کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا رکوع میں پڑھا جانے والا دعا
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا مِسعَر، عن سعيد بن أبي بُرْدة، عن أبيه، قال: صلَّيتُ إلى جَنْب ابن عمرَ العصرَ فسمعتُه يقول في ركوعه: ﴿رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِلْمُجْرِمِينَ﴾ [القصص: 17]، فلما انصرف قال: ما صلَّيتُ صلاةً إِلَّا وأنا أرجو أن تكون كَفَّارةً للَّتي أمامَها (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3533 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، سعید بن ابی بردہ کہتے ہیں کہ میں نے ان کے پہلو میں عصر کی نماز پڑھی تو انہیں رکوع میں یہ آیت پڑھتے سنا: ﴿رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِلْمُجْرِمِينَ﴾ [سورة القصص: 17] ”اے میرے رب! جیسا کہ تو نے مجھ پر فضل فرمایا ہے، اب میں کبھی بھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔“ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”میں نے جو بھی نماز پڑھی ہے، میں یہی امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے سے پہلے والی نماز کا کفارہ بن جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3575
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مهران. أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وأبو بردة: هو ابن أبي موسى الأشعري.» [ترقيم الرساله 3575] [ترقيم الشركة 3554] [ترقيم العلميه 3533]
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي ببغداد، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا عوف، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، عن رسول الله ﷺ قال: "ما أهلَكَ اللهُ قومًا ولا قَرْنًا ولا أُمّةً ولا أهلَ قريةٍ، منذُ أنزل اللهُ التوراةَ على وجه الأرض، بعذابٍ من السماء غيرَ القرية التي مُسِخَت قِرَدةً، ألم ترَ إلى قوله: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَى بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ﴾ [القصص: 43] " (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3534 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب سے اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر تورات نازل فرمائی ہے، اس کے بعد سے اللہ نے کسی بھی قوم، نسل، امت یا بستی والوں کو آسمانی عذاب کے ذریعے ہلاک نہیں کیا سوائے اس بستی کے جسے بندر بنا کر مسخ کر دیا گیا تھا، کیا تم نے (قرآن کا) یہ ارشاد نہیں دیکھا: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَى بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ﴾ [سورة القصص: 43] ”اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اس کے بعد کہ ہم نے پہلی نسلوں کو ہلاک کر دیا تھا، جو لوگوں کے لیے بصیرت کا ذریعہ، ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3576
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفًا
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن سعد العوفي، وقد توبع على رفعه عن روح.» [ترقيم الرساله 3576] [ترقيم الشركة 3555] [ترقيم العلميه 3534]
حدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان الشَّيباني، حدثنا عُقْبة بن مُكرَم الضَّبِّي، حدثنا أبو قَطَن عَمْرو بن الهيثم بن قَطَن بن كعب، حدثنا حمزة الزَّيّات، عن سليمان الأعمش، عن علي بن مُدرِك، عن أبي زُرْعة، عن أبي هريرة، ﴿وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا﴾ القصص: 46]، قال: نُودُوا: يا أُمَّةَ محمدٍ، استجبتُ لكم قبلَ أن تَدْعُوني، وأعطيتُكم قبلَ أن تَسألُوني (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3535 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا﴾ [سورة القصص: 46] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: (اس وقت) یہ پکارا گیا تھا: ”اے امتِ محمد ﷺ! میں نے تمہاری پکار سن لی اس سے پہلے کہ تم نے مجھے پکارا، اور میں نے تمہیں عطا کر دیا اس سے پہلے کہ تم نے مجھ سے مانگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3577
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل عقبة بن مكرم الضبي وحمزة الزيات. أبو زرعة: هو ابن عمرو بن جرير البجلي.» [ترقيم الرساله 3577] [ترقيم الشركة 3556] [ترقيم العلميه 3535]