أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عطاء، عن أبي أَسِيد، عن رسول الله ﷺ قال: "كُلُوا الزيت وادَّهِنوا به، فإنه من شجرةٍ مباركةٍ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ آخرُ بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3504 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ آخرُ بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3504 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زیتون کا تیل کھایا کرو اور اسے (جسم پر) لگایا بھی کرو، کیونکہ یہ ایک مبارک درخت سے حاصل ہوتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک دوسری صحیح سند سے بھی شاہد روایت موجود ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک دوسری صحیح سند سے بھی شاہد روایت موجود ہے۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حدثنا صفوان بن عيسى القاضي، عن عبد الله بن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري قال: سمعت جدِّي يُحدِّث عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "كُلُوا الزيتَ وادَّهِنوا به، فإنه طيِّبٌ مبارَكٌ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3505 - عبد الله بن سعيد واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3505 - عبد الله بن سعيد واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے لگاؤ، کیونکہ یہ پاکیزہ اور بابرکت ہے۔“
حدثنا أبو العبَّاس أحمد بن زياد الفقيه بالأَهْواز، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا محمد بن سعيد بن سابق، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: ﴿فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ (36) رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ [النور: 36، 37] قال: ضَرَبَ اللهُ هذا المثلَ، قولَه: ﴿مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ﴾ [النور: 35] لأولئك القوم الذين لا تُلهِيهم تجارةٌ ولا بيعٌ عن ذِكْر الله، وكانوا أتجرَ الناس وأبيَعَه، ولكن لم تكن تُلهِيهم تجارتُهم (2) ولا بيعُهم عن ذِكْر الله (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3506 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3506 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ (36) رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ [سورة النور: 36، 37] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ مثال ﴿مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ﴾ [سورة النور: 35] ان لوگوں کے لیے بیان فرمائی ہے جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی، وہ لوگ معاشرے میں سب سے زیادہ تجارت اور خرید و فروخت کرنے والے تھے، مگر ان کی یہ دنیاوی مصروفیات انہیں اللہ کی یاد سے کبھی غافل نہیں کرتی تھیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔