المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ ( وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ ) الْآيَةَ باب: آیت ”اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو“ کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 3544
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا حجَّاج بن محمد، عن ابن جُرَيج، أخبرني أبو الزُّبَير، أنه جابرًا يقول: كانت مُسَيكةُ لبعض الأنصار، فقالت: إنَّ سيِّدي يُكرِهُني على البِغاءِ، فنزلت: ﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا﴾ [النور: 33] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3502 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسیکہ (نامی لونڈی) انصار کے کسی شخص کی ملکیت تھی، اس نے (رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں) شکایت کی: ”میرا آقا مجھے بدکاری پر مجبور کرتا ہے،“ تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا﴾ [سورة النور: 33] ”اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو اگر وہ پاکدامنی چاہتی ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. وقد سلف برقم (2876).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ حوالہ / مصدر: اور یہ پہلے نمبر (2876) کے تحت گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ حوالہ / مصدر: اور یہ پہلے نمبر (2876) کے تحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3544 سے ماخوذ ہے۔