أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا نافع بن عمر الجُمَحي قال: سمعت عبد الله بن عبيد الله بن أبي مُلَيكة يقول: سُئِلَت عائشةُ عن مُتْعة النساء، فقالت: بيني وبينَكم كتابُ الله، قال: وقرأَتْ هذه الآية: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ﴾ [المؤمنون: 5، 6] فمَن ابتغى وراءَ ما زوَّجه اللهُ أو ملَّكَه، فقد عَدَا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3484 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3484 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورتوں کے نکاحِ متعہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کن ہے، راوی کہتے ہیں: انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ﴾ [سورة المؤمنون: 5-6] ”اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں کے یا اپنی لونڈیوں کے، کہ ان پر کوئی ملامت نہیں۔“ پس جس نے اللہ کی دی ہوئی بیویوں یا لونڈیوں کے علاوہ کسی اور چیز کی خواہش کی تو وہی حد سے بڑھنے والے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة في قوله: ﴿أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ﴾ [المؤمنون: 10]، قال: يَرِثُون مساكنَهم ومساكنَ إخوانهم الذين أُعدَّت لهم إذا أطاعوا الله (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3485 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3485 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 10] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اہلِ ایمان) اپنے ان ٹھکانوں کے وارث بنیں گے اور اپنے ان بھائیوں کے ٹھکانوں کے بھی وارث بنیں گے جو (نافرمانی کی صورت میں) ان کے لیے تیار کیے گئے تھے اگر وہ اللہ کی اطاعت کرتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهدُ الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مِهرانَ الأصبهاني، حدثنا محمد بن سابقٍ، حدثنا مالك بن مِغوَل، عن عبد الرحمن بن سعيد بن وَهْب، عن عائشة قالت: قلت: يا رسول الله، قولُ الله ﷿: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ﴾ [المؤمنون: 60]، أهو الرجلُ يَزْني ويَسرِق ويشربُ الخمر وهو مع ذلك يخافُ اللهَ ﷿؟ قال: "لا، ولكنه الرجلُ يصومُ ويُصلِّي ويتصدَّقُ وهو مع ذلك يخافُ اللهَ ﷿" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3486 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3486 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ عزوجل کا یہ فرمان ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ﴾ [سورة المؤمنون: 60] ”اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں،“ کیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو زنا، چوری اور شراب نوشی کرتا ہے اور اس کے باوجود اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو روزہ رکھتا ہے، نماز پڑھتا ہے اور صدقہ دیتا ہے اور اس کے باوجود اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔