حدیث نمبر: 3528
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهدُ الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مِهرانَ الأصبهاني، حدثنا محمد بن سابقٍ، حدثنا مالك بن مِغوَل، عن عبد الرحمن بن سعيد بن وَهْب، عن عائشة قالت: قلت: يا رسول الله، قولُ الله ﷿: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ﴾ [المؤمنون: 60]، أهو الرجلُ يَزْني ويَسرِق ويشربُ الخمر وهو مع ذلك يخافُ اللهَ ﷿؟ قال: "لا، ولكنه الرجلُ يصومُ ويُصلِّي ويتصدَّقُ وهو مع ذلك يخافُ اللهَ ﷿" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3486 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ عزوجل کا یہ فرمان ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ﴾ [سورة المؤمنون: 60] ”اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں،“ کیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو زنا، چوری اور شراب نوشی کرتا ہے اور اس کے باوجود اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو روزہ رکھتا ہے، نماز پڑھتا ہے اور صدقہ دیتا ہے اور اس کے باوجود اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3528
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه بين عبد الرحمن بن سعيد وعائشة
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعه بين عبد الرحمن بن سعيد وعائشة، فإنه لم يسمع منها كما قال أبو حاتم الرازي.» [ترقيم الرساله 3528] [ترقيم الشركة 3507] [ترقيم العلميه 3486]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه بين عبد الرحمن بن سعيد وعائشة، فإنه لم يسمع منها كما قال أبو حاتم الرازي.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند عبد الرحمٰن بن سعید اور عائشہ کے درمیان "انقطاع" کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ ابو حاتم کے بقول انہوں نے عائشہ سے نہیں سنا۔
وأخرجه أحمد (42/ 25263) و (25705)، وابن ماجه (4198)، والترمذي (3175) من طرق عن مالك بن مغول، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابن ماجہ اور ترمذی نے مالک بن مغول کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3528 سے ماخوذ ہے۔