کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آیت ”اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو“ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأَزْدي، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: نزلت هذه الآيةُ في حمزةَ وأصحابه: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [آل عمران: 169] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3457 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3457 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [سورة آل عمران: 169] ”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں ہرگز مردہ گمان نہ کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا ابن المبارَك، أخبرنا سعيد بن يزيد، عن أبي السَّمْح، عن ابن حُجَيرة، عن أبي هريرة، وتلا قولَ الله ﷿: ﴿فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ﴾ [الحج: 19]، فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ الحميمَ ليُصَبُّ على رؤوسهم فيَنفُذُ الجُمجُمةَ حتى يَخلُصَ إلى جوفِه، فيَسلُتُ ما في جوفِه حتى يُمرِّقَ قَدَميه، وهو الصَّهْر، ثم يُعادُ كما كان" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3458 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3458 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ﴾ [سورة الحج: 19] کی تلاوت کی اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک کھولتا ہوا پانی ان کے سروں پر انڈیل دیا جائے گا، پس وہ کھوپڑی کو چیرتا ہوا ان کے پیٹ تک پہنچ جائے گا، اور جو کچھ ان کے پیٹ میں ہے اسے گلا دے گا یہاں تک کہ وہ ان کے قدموں سے باہر نکل آئے گا، اور یہی «الصَّهْر» (پگھلانا) ہے، پھر وہ ویسے ہی کر دیے جائیں گے جیسے پہلے تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔