المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
نَزَلَتْ في حَمْزَةَ وَأَصْحَابِهِ آيَةُ ( وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا ) باب: آیت ”اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو“ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی
حدیث نمبر: 3499
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا ابن المبارَك، أخبرنا سعيد بن يزيد، عن أبي السَّمْح، عن ابن حُجَيرة، عن أبي هريرة، وتلا قولَ الله ﷿: ﴿فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ﴾ [الحج: 19]، فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ الحميمَ ليُصَبُّ على رؤوسهم فيَنفُذُ الجُمجُمةَ حتى يَخلُصَ إلى جوفِه، فيَسلُتُ ما في جوفِه حتى يُمرِّقَ قَدَميه، وهو الصَّهْر، ثم يُعادُ كما كان" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3458 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ﴾ [سورة الحج: 19] کی تلاوت کی اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک کھولتا ہوا پانی ان کے سروں پر انڈیل دیا جائے گا، پس وہ کھوپڑی کو چیرتا ہوا ان کے پیٹ تک پہنچ جائے گا، اور جو کچھ ان کے پیٹ میں ہے اسے گلا دے گا یہاں تک کہ وہ ان کے قدموں سے باہر نکل آئے گا، اور یہی «الصَّهْر» (پگھلانا) ہے، پھر وہ ویسے ہی کر دیے جائیں گے جیسے پہلے تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده فيه ضعفٌ، أبو السَّمح - وهو درَّاج بن سِمعان - خُلاصة القول فيه أنه يعتبر به في المتابعات والشواهد فإذا انفرد ضُعِّف، وهذا ممّا انفرد به. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وابن حجيرة: هو عبد الرحمن.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند میں "ضعف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو السمح (دراج بن سمعان) متابعات میں قابل قبول ہیں لیکن انفراد میں ضعیف ہیں، اور یہاں یہ منفرد ہیں۔
وأخرجه أحمد (14/ 8864)، والترمذي (2582) من طريقين عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح غريب. وفيه عندهما: "حتى يمرق من قدميه".
حوالہ / مصدر: اسے احمد (14/ 8864) اور ترمذی (2582) نے عبد اللہ بن مبارک سے نکالا ہے۔ ترمذی نے کہا: "حسن صحیح غریب"۔
الحميم: الماء الحارُّ.
نوٹ / توضیح: "الحمیم": گرم کھولتا ہوا پانی۔
فيسلُت: يقطع ويستأصل.
نوٹ / توضیح: "فیسلُت": کاٹ ڈالنا اور جڑ سے اکھاڑ دینا۔
وقوله: "يمرّق قدميه" أي: يقطّعها وينثرها من شدة حرّه، من: تمرَّق الشَّعر وغيره: إذا انتثر وتساقط.
نوٹ / توضیح: "یمرّق قدمیہ": یعنی شدتِ حرارت سے پاؤں کو کاٹ کر بکھیر دے گا۔
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند میں "ضعف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو السمح (دراج بن سمعان) متابعات میں قابل قبول ہیں لیکن انفراد میں ضعیف ہیں، اور یہاں یہ منفرد ہیں۔
وأخرجه أحمد (14/ 8864)، والترمذي (2582) من طريقين عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح غريب. وفيه عندهما: "حتى يمرق من قدميه".
حوالہ / مصدر: اسے احمد (14/ 8864) اور ترمذی (2582) نے عبد اللہ بن مبارک سے نکالا ہے۔ ترمذی نے کہا: "حسن صحیح غریب"۔
الحميم: الماء الحارُّ.
نوٹ / توضیح: "الحمیم": گرم کھولتا ہوا پانی۔
فيسلُت: يقطع ويستأصل.
نوٹ / توضیح: "فیسلُت": کاٹ ڈالنا اور جڑ سے اکھاڑ دینا۔
وقوله: "يمرّق قدميه" أي: يقطّعها وينثرها من شدة حرّه، من: تمرَّق الشَّعر وغيره: إذا انتثر وتساقط.
نوٹ / توضیح: "یمرّق قدمیہ": یعنی شدتِ حرارت سے پاؤں کو کاٹ کر بکھیر دے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3499 سے ماخوذ ہے۔