المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
نَزَلَتْ في حَمْزَةَ وَأَصْحَابِهِ آيَةُ ( وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا ) باب: آیت ”اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو“ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی
حدیث نمبر: 3498
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأَزْدي، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: نزلت هذه الآيةُ في حمزةَ وأصحابه: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [آل عمران: 169] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3457 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [سورة آل عمران: 169] ”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں ہرگز مردہ گمان نہ کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث، وسفيان: هو الثوري.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو اسحاق الفزاری: ابراہیم بن محمد بن الحارث، سفیان: الثوری۔
وقد سلف معناه في خبر أطول ممّا هنا برقم (2475) من رواية أبي الزبير عن سعيد بن جبير عن ابن عبَّاس مرفوعًا.
نوٹ / توضیح: اس کا مفہوم ایک طویل خبر میں (2475) پر گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو اسحاق الفزاری: ابراہیم بن محمد بن الحارث، سفیان: الثوری۔
وقد سلف معناه في خبر أطول ممّا هنا برقم (2475) من رواية أبي الزبير عن سعيد بن جبير عن ابن عبَّاس مرفوعًا.
نوٹ / توضیح: اس کا مفہوم ایک طویل خبر میں (2475) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3498 سے ماخوذ ہے۔