حدیث نمبر: 3441
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنَّاد، حدثنا خلَّاد بن مُسلِم الصَّفّار، حدثنا عمرو بن قيس المُلَائي، عن عمرو بن مُرَّة، عن مُصعَب بن سعد قال: كنت أقرأُ على أَبي حتى إذا بلغتُ هذه الآية: ﴿قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا﴾ الآية، قلت: يا أبَتاهُ، أهم الخوارجُ؟ قال: لا يا بنيَّ، اقرأ الآيةَ التي بعدها: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا﴾، قال: هم المجتهدون من النَّصارى، كان كفرُهم بآيات ربهم كفروا بمحمَّدٍ ولقائِه، وقالوا: ليس في الجنة طعام ولا شراب، ولكن الخوارج هم الفاسقون ﴿الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ [البقرة: 27] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3401 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

مصعب بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے سامنے تلاوت کر رہا تھا یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا: ﴿قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا﴾ ”کہہ دیجیے کہ کیا ہم تمہیں اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والوں کی خبر دیں؟“ [سورة الكهف: 103] تو میں نے عرض کیا: ”اے میرے والد! کیا اس سے مراد خوارج ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں اے میرے بیٹے! اس کے بعد والی آیت پڑھو: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا﴾ ”یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں اور اس سے ملاقات کا انکار کیا، پس ان کے اعمال ضائع ہو گئے اور ہم قیامت کے دن ان کا کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔“ [سورة الكهف: 105] اس سے مراد عیسائیوں میں سے وہ لوگ ہیں جو اپنے دین میں بہت کوشش کرنے والے (راہب وغیرہ) ہیں، ان کا اپنے رب کی نشانیوں کا کفر یہ تھا کہ انہوں نے محمد (ﷺ) اور اللہ سے ملاقات کا انکار کر دیا، اور کہنے لگے کہ جنت میں کوئی کھانا پینا نہیں ہوگا۔ البتہ خوارج تو وہ فاسق ہیں جن کے بارے میں فرمایا گیا: ﴿الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ ”جو اللہ کے عہد کو اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں، اور جس چیز کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔“ [سورة البقرة: 27]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا!

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3441
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي.
تخریج حدیث «إسناده قوي.» [ترقيم الرساله 3441] [ترقيم الشركة 3421] [ترقيم العلميه 3401]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "قوی" ہے۔
وأخرجه بنحوه البخاري (4728)، والنسائي (11251) من طريق شعبة، عن عمرو بن مرة، بهذا الإسناد - وذكر مع النصارى اليهودَ. واستدراك الحاكم له ذهول منه.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (4728) اور نسائی (11251) نے شعبہ کے طریق سے، عمرو بن مرہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور (اس میں) نصاریٰ کے ساتھ یہودیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔
اہم نکتہ: حاکم کا اسے مستدرک کہنا ان کا "ذہول" (غفلت) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3441 سے ماخوذ ہے۔