کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت
حدثنا أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعَيم بن حمَّاد، حدثنا هُشَيم، أخبرنا أبو هاشم، عن أبي مِجلَزٍ، عن قيس بن عُبَادٍ، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ النبي ﷺ قال: "مَن قرأَ سورةَ الكهف في يوم الجُمُعِة، أضاءَ له من النُّور ما بينَ الجُمُعتَينِ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3392 - نعيم ذو مناكير
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کی، تو اس کے لیے دو جمعوں کے درمیانی عرصے تک نور روشن کر دیا جاتا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3432
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، لكن بلفظ: أضاء له من النور ما بينه وبين البيت العتيق، وقد تابع نعيمَ بن حماد على رفعه يزيدُ بن خالد بن يزيد الرَّملي، وخالفهما سائر أصحاب هُشيم، فوقفوه، قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 5/ 39: الذين وقفوه عن هشيم أكثر وأحفظ، لكن له مع ذلك حكم ...» [ترقيم الرساله 3432] [ترقيم الشركة 3412] [ترقيم العلميه 3392]
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، أخبرنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا سعيد بن هُبَيرة، حدثنا عبد الله بن المبارَك، أخبرنا صفوان بن عمرو، عن عبد الله (2) بن بُسْر، عن أبي أُمامةَ، عن النبي ﷺ في قوله ﷿: ﴿وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ (16) يَتَجَرَّعُهُ﴾ [إبراهيم: 16، 17]، قال: "يُقرَّب إليه فيَتكرَّهُه، فإذا أُدنِيَ منه شَوَى وجهَه ووَقَعَ فَرْوةُ رأسه، فإذا شربه قَطَّعَ أمعاءَه حتى يَخرُجَ من دُبُرِه" يقول الله ﷿: ﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾ [محمد: 15]، ويقول الله ﷿: ﴿وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ [الكهف: 29] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ﴾ ”اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا جسے وہ گھونٹ گھونٹ پینے کی کوشش کرے گا۔“ [سورة إبراهيم: 16-17] کے متعلق فرمایا: ”وہ (پانی) اس کے قریب لایا جائے گا تو وہ اس سے کراہت کرے گا، پھر جب وہ اس کے مزید قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ بھون دے گا اور اس کے سر کی کھال گر جائے گی، پھر جب وہ اسے پیے گا تو اس کی انتڑیاں کاٹ دے گا یہاں تک کہ وہ اس کی دبر سے نکل جائیں گی۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾ ”اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ دے گا۔“ [سورة محمد: 15] اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ ”اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا، جو چہروں کو بھون دے گا، کیا ہی برا مشروب ہے۔“ [سورة الكهف: 29]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3433
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 3433] [ترقيم الشركة 3413]