کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ کے علم کے مقابلے میں انبیاء کا علم سمندر میں ایک قطرے کے برابر ہے
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا أبو عِمران موسى بن هارون بن عبد الله الحافظ، حدثني أَبي، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا ابن عُيَينة، عن عَمْرو بن دينار، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: حدثني أُبيٌّ، أنَّ النبي ﷺ قال: "لمَّا لَقِيَ موسى الخَضِرَ ﵇ جاء طيرٌ فأَلقى مِنقارَه في الماء، فقال الخضرُ لموسى: تَدبَّرْ ما يقولُ هذا الطائرُ، قال: وما يقول؟ قال: يقول: ما عِلمُكَ وعِلمُ موسى في عِلْم الله إلّا كما أَخَذَ مِنقارِي من الماء" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3394 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3394 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات خضر علیہ السلام سے ہوئی تو ایک پرندہ آیا اور اس نے اپنی چونچ پانی میں ڈالی۔ خضر علیہ السلام نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: غور کرو کہ یہ پرندہ کیا کہہ رہا ہے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: یہ کیا کہہ رہا ہے؟ خضر علیہ السلام نے فرمایا: یہ پرندہ کہہ رہا ہے کہ تمہارا علم اور موسیٰ کا علم اللہ کے علم کے مقابلے میں بس اتنا ہی ہے جتنا میری چونچ نے اس پانی میں سے لیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان عن مِسعَر، عن عبد الملك بن مَيسَرة، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: ﴿وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا﴾ [الكهف: 82]، قال: حُفِظا بصلاحِ أبيهما، وما ذَكَرَ عنهما صلاحًا (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3395 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3395 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا﴾ ”اور ان دونوں کا باپ ایک نیک انسان تھا۔“ [سورة الكهف: 82] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ان دونوں (یتیم بچوں) کی ان کے باپ کی نیکی کی وجہ سے حفاظت کی گئی، اور ان دونوں کی اپنی کسی نیکی کا ذکر نہیں کیا گیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔