حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي وهشام بن علي السَّدُوسي، قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا صَدَقة بن موسى، عن محمد بن واسع، عن سُمَير، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "إِنَّ ربَّكم تعالى يقول: لو أنَّ عبادي أَطاعوني لَأسقيتُهم المطرَ بالليل وأَطلعتُ عليهم الشمسَ بالنهار، ولم أُسمِعْهم صوتَ الرَّعْد" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3331 - بل صدقة بن موسى واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3331 - بل صدقة بن موسى واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمہارا رب تعالیٰ فرماتا ہے: اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں انہیں رات کے وقت بارش پلاؤں اور دن کے وقت ان پر سورج طلوع کروں، اور میں انہیں بادل گرجنے کی آواز نہ سناؤں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سليمان التَّيْمي، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾ [الرعد: 39]: من أحد الكتابَينِ، هما كتابان يَمحُو اللهُ ما يشاء من أحدِهما ويُثبِت، ﴿وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ أي: جُمْلةُ الكتاب (2). قد احتجَّ مسلمٌ بحمَّاد واحتجَّ البخاري بعِكْرمة، وهو غريب صحيح من حديث سليمان التيمي، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3332 - صحيح غريب
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3332 - صحيح غريب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾ [سورة الرعد: 39] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(یہ مٹانا) دو کتابوں میں سے ایک سے ہوتا ہے، یہ دو کتابیں ہیں، اللہ ان میں سے ایک سے جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جو چاہتا ہے) باقی رکھتا ہے، اور ﴿وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔“
امام مسلم نے حماد سے اور امام بخاری نے عکرمہ سے دلیل پکڑی ہے، اور یہ سلیمان تیمی کی حدیث سے غریب صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
امام مسلم نے حماد سے اور امام بخاری نے عکرمہ سے دلیل پکڑی ہے، اور یہ سلیمان تیمی کی حدیث سے غریب صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔