کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: آیت “ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی” کی تشریح
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن عُبَادة بن الصامت قال: سألتُ رسول الله ﷺ عن قول الله ﷿: ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ [يونس: 64]، قال: "هي الرُّؤْيا الصالحةُ يَراها الرجلُ أو تُرَى له" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3302 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ [سورة يونس: 64] ”ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی“ کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نیک خواب ہے جسے انسان خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے (کسی دوسرے کو) دکھایا جاتا ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3341
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله إلّا أنه منقطع، أبو سلمة لم يسمع من عبادة ابن الصامت كما قال ابن خراش والمزِّي في كتابيه "تهذيب الكمال" و"تحفة الأشراف". أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مَخلَد النبيل.» [ترقيم الرساله 3341] [ترقيم الشركة 3321] [ترقيم العلميه 3302]
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا النَّضْر بن شُمَيل، أخبرنا شُعْبة، عن عَديِّ بن ثابت قال: سمعت سعيد بن جُبير يحدِّث عن ابن عبَّاس، عن رسول الله ﷺ قال: "جَعَلَ جبريلُ يَدُسُّ الطينَ في فِي فِرعونَ، مَخافةَ أن يقولَ: لا إله إلَّا الله" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ أكثر أصحاب شعبة أَوقفوه على ابن عبَّاس. [11 - سورة هود] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3303 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل (علیہ السلام) فرعون کے منہ میں اس ڈر سے مٹی ٹھونسنے لگے کہ کہیں وہ ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ نہ کہہ دے (اور اس پر اللہ کی رحمت نہ ہو جائے)“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ شعبہ کے اکثر اصحاب نے اسے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول (موقوف) کے طور پر نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3342
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفً
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا على ابن عبَّاس كما سلف بيانه عند الحديث رقم (189).» [ترقيم الرساله 3342] [ترقيم الشركة 3322] [ترقيم العلميه 3303]