المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَرْحُ آيَةِ : لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ باب: آیت “ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی” کی تشریح
حدیث نمبر: 3342
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا النَّضْر بن شُمَيل، أخبرنا شُعْبة، عن عَديِّ بن ثابت قال: سمعت سعيد بن جُبير يحدِّث عن ابن عبَّاس، عن رسول الله ﷺ قال: "جَعَلَ جبريلُ يَدُسُّ الطينَ في فِي فِرعونَ، مَخافةَ أن يقولَ: لا إله إلَّا الله" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ أكثر أصحاب شعبة أَوقفوه على ابن عبَّاس. [11 - سورة هود] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3303 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل (علیہ السلام) فرعون کے منہ میں اس ڈر سے مٹی ٹھونسنے لگے کہ کہیں وہ ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ نہ کہہ دے (اور اس پر اللہ کی رحمت نہ ہو جائے)“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ شعبہ کے اکثر اصحاب نے اسے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول (موقوف) کے طور پر نقل کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح موقوفًا على ابن عبَّاس كما سلف بيانه عند الحديث رقم (189).
درجۂ حدیث: یہ حدیث ابن عباس پر "موقوف" ہونے کی حیثیت سے صحیح ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (189) کے تحت اس کا بیان گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث ابن عباس پر "موقوف" ہونے کی حیثیت سے صحیح ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (189) کے تحت اس کا بیان گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3342 سے ماخوذ ہے۔