أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا المكِّي، حدثنا أحمد بن محمد بن الوليد الأَزرَقي، حدثنا مُسلِم بن خالد، عن ابن خُثَيم، عن أبي الزُّبير، عن جابر بن عبد الله: أنَّ رسول الله ﷺ لمّا نَزَلَ الحِجرَ في غزوة تَبُوك قام فخَطَبَ الناسَ، فقال: "يا أيها الناسُ، لا تَسأَلوا نبيَّكم عن الآيات، فهؤلاءِ قومُ صالحٍ سألوا نبيَّهم أن يَبعَثَ لهم آيةً، فبَعَثَ الله لهم الناقةَ، فكانت تَرِدُ من هذا الفَجِّ فتشربُ ماءَهم يومَ وِرْدها، ويشربون من لبنِها مثلَ ما كانوا يَتروَّوْن من مائهم، فعَتَوْا عن أمر ربِّهم فعَقَرُوها، فوَعَدَهم الله ثلاثةَ أيام، وكان موعودًا من الله غيرَ مكذوب، ثم جاءتهم الصَّيحةُ فأَهلَكَ اللهُ مَن كان تحت مَشارِق السماوات ومَغارِبِها منهم إلَّا رجلًا كان في حَرَم الله، فمَنَعَه حَرَمُ الله من عذابِ الله" قالوا: يا رسول الله، من هو؟ قال: "أبو رِغَالٍ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3304 - صحيحسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک کے موقع پر مقامِ حجر میں اترے تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے نبی سے معجزات کا مطالبہ نہ کرو، بیشک صالح علیہ السلام کی قوم نے اپنے نبی سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے لیے کوئی نشانی بھیجی جائے، تو اللہ نے ان کے پاس اونٹنی بھیجی، وہ اس گھاٹی سے آتی تھی اور اپنی باری کے دن ان کا پانی پی جاتی تھی، اور وہ اس کے دودھ سے اتنا پیتے تھے جتنا کہ وہ اپنے پانی سے سیراب ہوتے تھے، پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور اسے ذبح کر دیا، تو اللہ نے ان سے تین دن کا وعدہ کیا اور اللہ کا وہ وعدہ جھوٹا نہیں تھا، پھر ایک زوردار چیخ نے انہیں آ لیا اور اللہ نے ان میں سے ہر اس شخص کو ہلاک کر دیا جو آسمان کے مشرق و مغرب کے نیچے (روئے زمین پر) تھا سوائے ایک شخص کے جو اللہ کے حرم میں تھا، پس حرم کی وجہ سے اسے اللہ کے عذاب سے بچا لیا گیا“، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ابو رغال تھا“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے؛ مسلم بن خالد (الزنجی) ضعیف ہے لیکن متابعات اور شواہد میں اس کا اعتبار کیا جاتا ہے، اور رقم (3287) میں اس کی متابعت گزر چکی ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (6197) نے عبداللہ بن وہب کے طریق سے، مسلم بن خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ وہاں اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے، لہٰذا یہاں سے اس کا استدراک کیا جاتا ہے۔