حدثني أبو النضر محمد بن محمد الفقيه بالطابَرانِ، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا الوليد بن مُسلِم، حدثنا هشام بن الغازِ، أخبرني نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ وَقَفَ يومَ النَّحْر بين الجَمَرات في الحَجَّة التي حجَّ، فقال للناس: "أيُّ يومٍ هذا؟ " قالوا: هذا يومُ النَّحر، قال: "فأيُّ بلدٍ هذا؟ " قالوا: هذا البلدُ الحرام، قال: "فأيُّ شهرٍ هذا؟ " قالوا: الشهرُ الحرام، قال: "هذا يومُ الحجِّ الأكبَرِ، فدماؤُكم وأموالُكم وأعراضُكم عليكم حرامٌ، كحُرْمة هذا البلدِ في هذا اليوم" ثم قال: "هل بَلَّغتُ؟ " قالوا: نعم، فطَفِقَ رسولُ الله ﷺ يقول: "اللهمَّ اشْهَدْ"، ثم وَدَّعَ الناسَ، فقالوا: هذه حجَّةُ الوداع (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وأكثرُ هذا المتن مخرَّج في "الصحيحين" (1) إِلَّا قولَه: "إنَّ يومَ الحجِّ الأكبر يومُ النحر" مسنَدًا (2)، فإنَّ الأقاويل فيه عن الصحابة والتابعين ﵃ على خلافٍ بينهم فيه، فمنهم من قال: يومُ عَرَفة، ومنهم من قال: يومُ النَّحر (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3276 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وأكثرُ هذا المتن مخرَّج في "الصحيحين" (1) إِلَّا قولَه: "إنَّ يومَ الحجِّ الأكبر يومُ النحر" مسنَدًا (2)، فإنَّ الأقاويل فيه عن الصحابة والتابعين ﵃ على خلافٍ بينهم فيه، فمنهم من قال: يومُ عَرَفة، ومنهم من قال: يومُ النَّحر (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3276 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر یوم النحر (قربانی کے دن) جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور لوگوں سے پوچھا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یہ قربانی کا دن ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ انہوں نے عرض کی: یہ شہرِ حرام (مکہ) ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: یہ مہینہ حرام ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حجِ اکبر کا دن ہے، پس تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس شہر کی حرمت اس دن میں ہے“، پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ ﷺ فرمانے لگے: ”اے اللہ! تو گواہ رہنا“، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو الوداع کہا تو لوگوں نے کہا کہ یہ حجۃ الوداع ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ اس متن کا اکثر حصہ صحیحین میں موجود ہے سوائے اس قول کے کہ ”حج اکبر کا دن یوم النحر ہے“، کیونکہ اس بارے میں صحابہ اور تابعین کے اقوال میں اختلاف ہے، بعض نے اسے عرفہ کا دن کہا ہے اور بعض نے یوم النحر۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ اس متن کا اکثر حصہ صحیحین میں موجود ہے سوائے اس قول کے کہ ”حج اکبر کا دن یوم النحر ہے“، کیونکہ اس بارے میں صحابہ اور تابعین کے اقوال میں اختلاف ہے، بعض نے اسے عرفہ کا دن کہا ہے اور بعض نے یوم النحر۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهران، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا أبو جعفر الرازي. وأخبرني عبد الرحمن بن حمدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا إسحاق بن أحمد الخرَّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن الرَّبيع بن أنس، عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ -قال: "مَن فارقَ الدنيا على الإخلاصِ لله وحدَه لا شريك له، وإقامِ الصلاة، وإيتاءِ الزكاة، فارَقَها واللهُ عنه راضٍ". وهو دِينُ الله الذي جاءت به الرسلُ، وبَلَّغوه عن ربهم قبل هَرْجِ الأحاديث، واختلافِ الأهواء، وتصديقُ ذلك في كتاب الله: ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ﴾ [التوبة: 5]، وقولُه ﷿: ﴿فَإِنْ تَابُوا﴾ يقول: خَلَعوا الأوثانَ وعِبادتَها ﴿وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ﴾، وقال ﷿ في آية أخرى: ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ﴾ [التوبة:11] (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3277 - صدر الخبر مرفوع وسائره مدرج فيما أرى
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3277 - صدر الخبر مرفوع وسائره مدرج فيما أرى
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص دنیا سے اس حال میں رخصت ہوا کہ وہ اکیلے اللہ کے لیے اخلاص رکھتا ہو جس کا کوئی شریک نہیں، اور نماز قائم کرنے والا اور زکوٰۃ ادا کرنے والا ہو، تو وہ اس حال میں رخصت ہوگا کہ اللہ اس سے راضی ہوگا“، اور یہی اللہ کا وہ اصل دین ہے جسے تمام رسول لے کر آئے اور انہوں نے اسے اپنے رب کی طرف سے باتوں کے خلط ملط ہونے اور مختلف خواہشات کے پیدا ہونے سے پہلے ہی پہنچا دیا، اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ان آیات سے ہوتی ہے: ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ﴾ ”پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو“ [سورة التوبة: 5]، اور فرمایا: ﴿فَإِنْ تَابُوا﴾ یعنی وہ بتوں اور ان کی عبادت سے دستبردار ہو جائیں، اور دوسری جگہ فرمایا: ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ﴾ ”پس اگر وہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں“ [سورة التوبة: 11]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن صِلَة بن زُفَر، عن حُذيفة: ﴿فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ﴾ [التوبة:12]، قال: لا عهدَ لهم، قال حذيفة: ما قُوتِلوا بعدُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3278 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3278 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ﴾ ”پس تم کفر کے سرغنوں سے لڑو، یقیناً ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں“ [سورة التوبة: 12] کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ان کے لیے کوئی عہد نہیں ہے“، اور فرمایا: ”ابھی ان سے قتال نہیں کیا گیا (یعنی یہ حکم مستقبل کے فتنوں کے لیے ہے)“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔