کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سورۂ توبہ کی تفسیر — اس سورت کے آغاز میں بسم اللہ کیوں نہیں لکھی گئی
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا عَوْف بن أبي جَميلة، عن يزيد الفارسي قال: حدثنا ابن عبَّاس قال: قلتُ لعثمان بن عفَّان: ما حَمَلَكم على أن عَمَدتُم إلى الأنفال وهي من المَثاني وإلى براءةَ وهي من المِئين، فقَرَنتُم بينهما ولم تكتبوا بينهما سطرَ: بسم الله الرَّحمن الرَّحيم، ووَضَعتُموها في السَّبع الطِّوَال، فما حَمَلَكم على ذلك؟ فقال عثمان: كان رسول الله ﷺ ممَّا يأتي عليه الزمانُ وهو يَنزِل عليه من السُّوَر ذواتِ العَدَد، قال: وكان إذا نَزَلَ عليه الشيءُ دعا بعضَ من يكتب له، فيقول: "ضَعُوا هؤلاء الآياتِ في السُّورة التي يُذكَرُ فيها كذا وكذا" فإذا نَزَلَت عليه الآية فيقول (3): "ضَعُوا هذه في السورة التي يُذكَرُ فيها كذا وكذا"، وكانت الأنفالُ من أوائل ما نَزَلَت بالمدينة، وكانت براءةُ من آخر القرآن، وكانت قِصَّتُها شبيهةً بقصتِها، فظننتُ أنها منها، فقُبِضَ رسول الله ﷺ ولم يُبيِّن لنا أنها منها، فلم أكتبْ بينهما سطرَ: بسم الله الرَّحمن الرَّحيم، فوضعتُها في السَّبْع الطُّوَل (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3272 - تقدم هذا وأنه صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3272 - تقدم هذا وأنه صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے سورہ انفال کو، جو کہ مثانی (سو سے کم آیات والی سورتوں) میں سے ہے، اور سورہ براءت کو، جو کہ مئین (سو یا اس سے زائد آیات والی سورتوں) میں سے ہے، ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا اور ان کے درمیان ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کی سطر بھی نہیں لکھی اور ان دونوں کو قرآن کی سات طویل سورتوں میں شامل کر دیا، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر ایک طویل عرصے تک مختلف سورتیں نازل ہوتی رہیں، جب آپ ﷺ پر وحی کا کوئی حصہ نازل ہوتا تو آپ کاتب وحی کو بلا کر فرماتے: ”ان آیات کو اس سورت میں رکھ دو جس میں فلاں فلاں بات کا ذکر ہے“، سورہ انفال مدینہ میں ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی اور سورہ براءت (توبہ) قرآن کے آخری حصے میں نازل ہوئی، ان دونوں کے قصے اور مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے اس لیے میں نے گمان کیا کہ یہ اسی کا حصہ ہے، پھر رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی اور آپ نے ہمارے لیے یہ واضح نہیں فرمایا تھا کہ یہ اسی کا حصہ ہے، اسی لیے میں نے ان کے درمیان ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ نہیں لکھی اور اسے سات طویل سورتوں میں شامل کر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
فحدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد، حدثنا محمد بن زكريا بن دينار، حدثنا يعقوب بن جعفر بن سليمان الهاشمي، حدثني أَبي، عن أبيه، عن علي بن عبد الله بن عبَّاس قال: سمعت أَبي يقول: سألتُ عليَّ بن أبي طالب: لِمَ لَمْ يُكتَبْ في براءةَ: بسم الله الرَّحمن الرَّحيم؟ قال: لأنَّ "بسم الله الرَّحمن الرَّحيم" أمانٌ، وبراءةُ أُنزِلَت بالسَّيف ليس فيها أمانٌ (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن عبداللہ بن عباس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ سورہ براءت کے شروع میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کیوں نہیں لکھی گئی؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”اس لیے کہ «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» امان و سلامتی ہے، جبکہ سورہ براءت تلوار (کے حکم اور اعلانِ جنگ) کے ساتھ نازل ہوئی ہے جس میں (مشرکین کے لیے) کوئی امان نہیں ہے“۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن المغيرة السُّكَّري (3)، حدثنا القاسم بن الحَكَم العُرَني، حدثنا سفيان بن سعيد، عن الأعمش، عن عبد الله ابن مُرَّة (4)، عن عبد الله بن سَلِمة، عن حذيفة قال: ما تقرؤون رُبعَها -يعني: براءة- وإنكم تُسمُّونها سورةَ التوبة وهي سورةُ العذاب (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3274 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3274 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تم اس سورت کا چوتھائی حصہ بھی نہیں پڑھتے جسے تم سورہ توبہ کہتے ہو، حالانکہ وہ تو سورہ عذاب ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النَّضْر بن شُميل، أخبرنا شُعبة، عن سليمان الشَّيباني، عن الشَّعْبي، عن المحرَّر بن أبي هريرة، عن أبيه قال: كنت في البَعْث الذين بَعَثَهم رسول الله ﷺ مع عليٍّ ببراءةَ إلى مكة، فقال له ابنه أو رجل آخر: فبِمَ كنتم تُنادُون؟ قال: كنا نقول: لا يَدخُلُ الجنةَ إلَّا مؤمنٌ، ولا يَحُجُّ بعد العام مشركٌ، ولا يطوفُ بالبيت عُرْيانٌ، ومن كان بينه وبين رسول الله ﷺ، عهدٌ، فإنَّ أَجَلَه أربعةُ أشهر، فناديتُ حتى صَحِلَ صوتي (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3275 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3275 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اس وفد میں شامل تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سورہ براءت کا اعلان کرنے کے لیے مکہ روانہ فرمایا تھا، ان کے بیٹے یا کسی اور شخص نے ان سے پوچھا کہ تم وہاں کیا پکارتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہم یہ اعلان کرتے تھے کہ ”جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوگا، اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا، بیت اللہ کا طواف کوئی برہنہ شخص نہیں کرے گا، اور جس کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے اس کی مدت چار ماہ ہے“، میں نے اس قدر بلند آواز سے یہ پکارا کہ میرا گلا بیٹھ گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔