المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ - لِمَ لَمْ تُكْتَبْ فِي بَرَاءَةَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ؟ باب: سورۂ توبہ کی تفسیر — اس سورت کے آغاز میں بسم اللہ کیوں نہیں لکھی گئی
حدیث نمبر: 3312
فحدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد، حدثنا محمد بن زكريا بن دينار، حدثنا يعقوب بن جعفر بن سليمان الهاشمي، حدثني أَبي، عن أبيه، عن علي بن عبد الله بن عبَّاس قال: سمعت أَبي يقول: سألتُ عليَّ بن أبي طالب: لِمَ لَمْ يُكتَبْ في براءةَ: بسم الله الرَّحمن الرَّحيم؟ قال: لأنَّ "بسم الله الرَّحمن الرَّحيم" أمانٌ، وبراءةُ أُنزِلَت بالسَّيف ليس فيها أمانٌ (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن عبداللہ بن عباس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ سورہ براءت کے شروع میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کیوں نہیں لکھی گئی؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”اس لیے کہ «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» امان و سلامتی ہے، جبکہ سورہ براءت تلوار (کے حکم اور اعلانِ جنگ) کے ساتھ نازل ہوئی ہے جس میں (مشرکین کے لیے) کوئی امان نہیں ہے“۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده واهٍ، آفته محمد بن زكريا بن دينار، واتَّهمه الدارقطني بالوضع، وقال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" (14530): إسناده ضعيف جدًا، ومحمد بن زكريا: هو الغَلّابي، وهو متروك.
درجۂ حدیث: اس کی سند واہی (سخت کمزور) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی آفت (بنیادی خرابی) محمد بن زکریا بن دینار ہے، جسے دارقطنی نے گھڑنے (وضع) کا ملزم ٹھہرایا ہے۔ حافظ ابن حجر نے "اتحاف المہرہ" (14530) میں فرمایا: اس کی سند سخت ضعیف ہے، اور محمد بن زکریا دراصل "الغَلّابی" ہے، اور وہ متروک ہے۔
وأخرجه ابن الأعرابي في "معجمه" (567) عن محمد بن زكريا، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن الاعرابی نے اپنے "معجم" (567) میں محمد بن زکریا سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند واہی (سخت کمزور) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی آفت (بنیادی خرابی) محمد بن زکریا بن دینار ہے، جسے دارقطنی نے گھڑنے (وضع) کا ملزم ٹھہرایا ہے۔ حافظ ابن حجر نے "اتحاف المہرہ" (14530) میں فرمایا: اس کی سند سخت ضعیف ہے، اور محمد بن زکریا دراصل "الغَلّابی" ہے، اور وہ متروک ہے۔
وأخرجه ابن الأعرابي في "معجمه" (567) عن محمد بن زكريا، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن الاعرابی نے اپنے "معجم" (567) میں محمد بن زکریا سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3312 سے ماخوذ ہے۔