حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبَّاس بن محمد الدُّورِي، حدثنا وهب بن جَرير بن حازم، حدثني أبي قال: سمعت محمدَ بن إسحاق يقول: حدثني الحارث بن عبد الرحمن (1)، عن مكحول، عن أبي أُمامة، عن عُبادة بن الصامت قال: سألتُه عن الأنفال قال: فينا يومَ بدرٍ، نزلت، كان الناس على ثلاث منازلَ: ثُلُث يقاتل العدوَّ، وثلثٌ يَجمَع المَتاعَ ويأخذ الأُسارَى، وثلثٌ عند الخيمة يحرُسُون رسولَ الله ﷺ، فلما جُمِعَ المتاعُ اختَلفوا فيه، فقال الذين جمعوه وأَخذوه: قد نَفَّلَ رسولُ الله ﷺ كلَّ امرِئٍ منّا ما أصاب، فهو لنا دونَكم، وقال الذين يقاتلون العدوَّ ويَطلُبونه: واللهِ لولا نحنُ ما أَصبتُموه، فنحن شَغَلْنا القومَ عنكم، وقال الحَرَس: واللهِ ما أنتم بأحقِّ به منا، لقد رأيتُنا إنْ نقاتل العدوَّ حين مَنَحَنا اللهُ أكتافَهم أن نأخذَ المتاعَ حين لم يكن أحد يَمنَع دونَه، ولكنّا خِفْنا غِرَّةَ العدوِّ على رسول الله ﷺ فقمنا، دونَه، قال: فانتَزَعَها اللهُ من أيدينا فجعله إلى رسول الله ﷺ، فقَسَمَه على السَّوَاء لم يكن فيه يومئذٍ خُمُس، كان فيه تَقْوى الله وطاعتُه وطاعةُ رسول الله ﷺ وصلاحُ ذاتِ البَيْن (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3259 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3259 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے انفال (مالِ غنیمت) کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ آیت ہمارے بارے میں بدر کے دن نازل ہوئی، اس وقت لوگ تین گروہوں میں (تقسیم) تھے: ایک تہائی دشمن سے لڑ رہے تھے، ایک تہائی سامانِ غنیمت جمع کر رہے تھے اور قیدیوں کو پکڑ رہے تھے، جبکہ ایک تہائی خیمے کے پاس رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کر رہے تھے، جب سامان جمع ہو گیا تو اس کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف ہو گیا، جن لوگوں نے اسے جمع کیا اور پکڑا تھا وہ کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے ہر شخص کو وہی کچھ عطا فرمایا ہے جو اس نے حاصل کیا ہے، لہٰذا یہ تمہارے بجائے ہمارا حق ہے، اور جو لوگ دشمن سے لڑ رہے تھے اور ان کا تعاقب کر رہے تھے انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم نہ ہوتے تو تم اسے حاصل نہ کر پاتے، ہم نے ہی تو دشمن کو تم سے الجھائے رکھا تھا، اور پہرے داروں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ہم سے زیادہ اس کے حقدار نہیں ہو، ہم نے خود کو اس حال میں دیکھا کہ جب اللہ نے دشمن کو ہمارے قابو میں کر دیا تو ہم بھی سامان پکڑ سکتے تھے کیونکہ وہاں کوئی روکنے والا نہ تھا، لیکن ہمیں رسول اللہ ﷺ پر دشمن کے اچانک حملے کا خوف تھا اس لیے ہم آپ ﷺ کی حفاظت میں کھڑے رہے، (سیدنا عبادہ نے) فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے وہ مال ہمارے ہاتھوں سے چھین کر رسول اللہ ﷺ کے سپرد کر دیا اور آپ ﷺ نے اسے (سب میں) برابر تقسیم فرما دیا، اس دن اس میں پانچواں حصہ (خمس) نہیں تھا، اس (حکم) میں اللہ کا تقویٰ، اس کی اطاعت، رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری اور آپس کے تعلقات کی اصلاح (کا درس) تھا“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا المعتمر بن سليمان قال: سمعت داود بن أبي هند يحدِّث عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: قال رسول الله ﷺ: من فعل كذا وكذا، أو أَتى مكانَ كذا وكذا، فله كذا وكذا"، فسَارَعَ الشُّبّانُ إلى ذلك وثَبَتَ الشيوخُ تحت الرايات، فلما فَتَحَ الله عليهم جاؤوا (1) الشُّبّانُ يطلبون ما جُعِل لهم، وقالت الشيوخ: إنا كنَّا رِدْءًا لكم وكنَّا تحتَ الرايات، فأنزل الله ﷿: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3260 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3260 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص فلاں فلاں کام کرے گا یا فلاں فلاں جگہ پہنچے گا، اس کے لیے اتنا اتنا انعام ہوگا“، تو نوجوان تو (انعامات کی خاطر) اس کی طرف تیزی سے لپکے مگر معمر بزرگ جھنڈوں تلے (اپنی جگہوں پر) ثابت قدم رہے، پھر جب اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی تو نوجوان اپنا وہ حصہ مانگنے آئے جو ان کے لیے مقرر کیا گیا تھا، جبکہ بزرگوں نے کہا: ہم تمہارے لیے قوت و پشت پناہ تھے اور ہم جھنڈوں کے نیچے موجود رہے، اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ ”وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرما دیجیے: غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں، سو اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات درست کرو“ [سورة الأنفال: 1]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: لما فَرَغَ رسول الله ﷺ من القتلى قيل له: عليك العِيرَ، ليس دونَها شيءٌ، فناداه العبَّاسُ وهو في وَثَاقه: إنه لا يَصلُحُ لك، قال: "لِمَ؟ " قال: لأنَّ الله وَعَدَك إحدى الطائفتين، وقد أَنجَزَ لك ما وَعَدَك (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3261 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3261 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مقتولین (کے معاملے) سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: آپ قافلے کا پیچھا کریں، اب اس کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے، جبکہ وہ قید میں بندھے ہوئے تھے، آپ ﷺ کو پکار کر کہا: یہ آپ کے لیے درست نہیں ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیوں؟“ انہوں نے کہا: اس لیے کہ اللہ نے آپ سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ فرمایا تھا اور جو وعدہ اس نے آپ سے کیا تھا وہ آپ کے لیے پورا فرما چکا ہے (یعنی اب قافلے کا پیچھا کرنا وعدے میں شامل نہیں)۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا محمد بن علي بن مَخلَد القاضي ببغداد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدَّورَقي، حدثنا يعقوب بن يوسف (4) السَّدُوسي، حدثنا شُعْبة، عن داود بن أبي هند، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري في هذه الآية: ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾ [الأنفال: 16] قال: نَزَلَت فينا يومَ بدر (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3262 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3262 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس آیت: ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾ ”اور جو شخص اس دن ان (کافروں) سے اپنی پیٹھ پھیرے گا“ [سورة الأنفال: 16] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”یہ آیت ہمارے بارے میں غزوہ بدر کے دن نازل ہوئی تھی“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔