کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سننا دیکھنے کے برابر نہیں ہوتا
أخبرني علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حدثنا العبَّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا سُرَيج بن النعمان، حدثنا هُشَيم، عن أبي بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: قال رسول الله ﷺ: "ليس الخَبرُ كالمُعايَنةِ، إنَّ الله خَبَّر موسى بما صَنَعَ قومُه في العِجُل، فلم يُلقِ الألواحَ، فلما عايَنَ ما صَنَعوا أَلقى الألواح" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3250 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سنی سنائی خبر بچشمِ خود دیکھنے (مشاہدے) کی طرح نہیں ہوتی، اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قوم کے بچھڑا (معبود) بنا لینے کی خبر دی تو انہوں نے تختیاں نہیں پھینکیں، لیکن جب انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے ان کا کرتوت دیکھ لیا تو (جلال میں آ کر) تختیاں پھینک دیں“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3289
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح ـ رجاله عن آخرهم ثقات إلّا أنَّ هشيمًا مع شهرة روايته عن أبي بشر جعفر بن أبي وحشية وسماعه منه، قد قال ابن عدي في حديثه هذا: يقال: إنه لم يسمعه من أبي بشر إنما سمعه من أبي عوانة عن أبي بشر فدلَّسه قلنا: وأبو عوانة -وهو وضّاح ...» [ترقيم الرساله 3289] [ترقيم الشركة 3269] [ترقيم العلميه 3250]
حدثني عُمر (3) بن محمد بن صفوان الجُمَحي بمكة في دار أبي بكر الصِّدّيق ﵁، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا سِمَاك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: أَتى هارونُ على السامِرِيِّ وهو يَصنَعُ العجلَ، فقال له: ما تصنعُ؟ قال: ما لا (1) يَنفَعُ ولا يضرُّ، فقال: اللهمَّ أَعطِه ما سألك [على ما] (2) في نفسِه، فلما ذهب قال: اللهمَّ إني أسألك أن يَخُورَ، فخار، فكان إذا سجد خارَ، وإذا رفع رأسَه خارَ، وذلك بدعوةِ هارون (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3251 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ہارون علیہ السلام سامری کے پاس پہنچے جبکہ وہ بچھڑا بنا رہا تھا، انہوں نے اس سے پوچھا: تم یہ کیا بنا رہے ہو؟ اس نے کہا: ایسی چیز جو نہ نفع پہنچاتی ہے نہ نقصان۔ ہارون علیہ السلام نے (بطور بد دعا) کہا: اے اللہ! اسے وہی دے دے جو اس نے اپنے دل میں (نیت کر کے) مانگا ہے، جب وہ چلا گیا تو کہنے لگا: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ یہ بولنے لگے، پس وہ بولنے لگا، چنانچہ جب کوئی سجدہ کرتا تو وہ بچھڑا آواز نکالتا اور جب کوئی سر اٹھاتا تب بھی وہ آواز نکالتا، اور یہ سیدنا ہارون علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے ہوا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3290
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل سماك بن حرب
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل سماك بن حرب، والخبر، موقوف، ولعلَّه ممّا أخذه ابن عباس عن أهل الكتاب.» [ترقيم الرساله 3290] [ترقيم الشركة 3270] [ترقيم العلميه 3251]