المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ وَسِيلَةً باب: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ کے نزدیک قرب کا بڑا ذریعہ ہیں
حدیث نمبر: 3255
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا مُحاضِر بن المورِّع، حدثنا الأعمش، عن أبي وائل، عن حُذَيفة: أنه سمع قارئًا يقرأ ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ [المائدة: 35]، قال: القُرْبةَ، ثم قال: لقد عَلِمَ المحفوظون من أصحاب محمد ﷺ أنَّ ابنَ أمِّ عبدٍ من أقربِهم إلى الله وسيلةً (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3216 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک قاری کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو“ [سورة المائدة: 35]، تو انہوں نے فرمایا: (وسیلہ سے مراد) «الْقُرْبَةَ» ”قربِ الٰہی“ ہے، پھر فرمایا: ”اصحاب محمد ﷺ میں سے جو (علم کو) محفوظ رکھنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود) اللہ کے ہاں وسیلے کے لحاظ سے ان سب میں سب سے زیادہ قریب ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل محاضر بن المورِّع أبو وائل: هو شقيق بن سلمة.
درجۂ حدیث: اس کی سند محاضر بن المورع کی وجہ سے ’حسن‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو وائل سے مراد ’شقیق بن سلمہ‘ ہیں۔
وسيأتي برقم (5461) من طريق أبي معاوية عن الأعمش دون ذكر الآية، وزاد في أوله: أشبه الناس هديًا وسمتًا ودلًّا بمحمد ﷺ عبدُ الله بن مسعود … وانظر تخريجه هناك.
تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (5461) پر ابو معاویہ عن الاعمش کے طریق سے آیت کے ذکر کے بغیر آئے گا، اور اس کے شروع میں یہ اضافہ کیا ہے: "طریقے، چال ڈھال اور عادت میں محمد ﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ عبداللہ بن مسعود ہیں..."، اور اس کی تخریج وہیں دیکھیں۔
وابن أمِّ عبدٍ: هو عبد الله بن مسعود ﵁.
نوٹ / توضیح: ابن ام عبد سے مراد ’عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ‘ ہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند محاضر بن المورع کی وجہ سے ’حسن‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو وائل سے مراد ’شقیق بن سلمہ‘ ہیں۔
وسيأتي برقم (5461) من طريق أبي معاوية عن الأعمش دون ذكر الآية، وزاد في أوله: أشبه الناس هديًا وسمتًا ودلًّا بمحمد ﷺ عبدُ الله بن مسعود … وانظر تخريجه هناك.
تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (5461) پر ابو معاویہ عن الاعمش کے طریق سے آیت کے ذکر کے بغیر آئے گا، اور اس کے شروع میں یہ اضافہ کیا ہے: "طریقے، چال ڈھال اور عادت میں محمد ﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ عبداللہ بن مسعود ہیں..."، اور اس کی تخریج وہیں دیکھیں۔
وابن أمِّ عبدٍ: هو عبد الله بن مسعود ﵁.
نوٹ / توضیح: ابن ام عبد سے مراد ’عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ‘ ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3255 سے ماخوذ ہے۔