حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حدثنا مُعلَّى بن منصور، حدثنا ابن أبي زائدة، عن محمد بن إسحاق، عن أبان بن صالح، عن القعقاع بن حَكيم، عن سَلْمى أخت أبي رافع (3)، عن أبي رافع قال: أمَرنا رسول الله ﷺ بقتل الكلاب، فقال الناس: يا رسول الله، ما أُحِلَّ لنا من هذه الأُمَّة التي أمرتَ بقتلها؟ فأنزل الله: ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [المائدة: 4] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3212 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3212 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کتے مارنے کا حکم دیا، تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس امت (جانوروں) میں سے ہمارے لیے کیا حلال کیا گیا ہے جنہیں مارنے کا آپ نے حکم دیا ہے؟ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ ”وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے؟ آپ فرما دیجیے: تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اور وہ شکاری جانور بھی جنہیں تم نے سدھایا ہو“ [سورة المائدة: 4]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامري، حدثنا يحيى بن فَصِيل (2)، حدثنا الحسن بن صالح، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: إنما أُحِلَّت ذبائحُ اليهود والنصارى من أجل أنهم آمنوا بالتَّوراة والإنجيل (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3213 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3213 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ذبیحے محض اس لیے حلال کیے گئے ہیں کہ وہ تورات اور انجیل پر ایمان لائے ہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو الحسن علي بن محمد القُرشي بالكوفة، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامري، حدثنا مُصعَب بن المقدام، حدثنا سفيان بن سعيد، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ﴾ قال: جعل منكم (1) أنبياء ﴿وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا﴾ قال: المرأةُ والخادمُ ﴿وَآتَاكُمْ مَا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ﴾ [المائدة: 20] قال: الذين هم بين ظَهرانَيهِم يومئذٍ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3214 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3214 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ﴾ ”اس نے تم میں انبیاء بنائے“ کے بارے میں روایت ہے کہ اس کا مطلب ہے تم میں سے انبیاء بنائے، اور ﴿وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا﴾ ”اور تمہیں بادشاہ بنایا“ کے بارے میں فرمایا: (اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس) بیوی اور خادم ہو، اور ﴿وَآتَاكُمْ مَا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ﴾ ”اور تمہیں وہ کچھ دیا جو جہانوں میں کسی کو نہیں دیا“ [سورة المائدة: 20] کے بارے میں فرمایا: (مراد وہ لوگ ہیں) جو اس زمانے میں ان کے مابین موجود تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن محمد القرشي، حدثنا الحسن بن علي، حدثنا مُصعَب ابن المِقدام، حدثنا سفيان، عن سَلَمة بن كُهيل، عن مالك بن حُصَين، عن أبيه، عن عليٍّ في قوله تعالى: ﴿رَبَّنَا أَرِنَا اللَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا﴾ [فصلت:29]، قال: إبليسُ، وابنُ آدمَ الذي قَتَل أخاه (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3215 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3215 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿رَبَّنَا أَرِنَا اللَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا﴾ ”اے ہمارے رب! ہمیں وہ دونوں دکھا جنہوں نے جنوں اور انسانوں میں سے ہمیں گمراہ کیا، ہم انہیں اپنے قدموں تلے روند ڈالیں“ [سورة فصلت: 29] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”وہ ابلیس اور آدم کا وہ بیٹا (قابیل) ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔