أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا يعقوب بن حُميد بن كاسِب، حدثنا يعلى بن شَبِيب المكي، حدثنا هشام بن عُرُوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كان الرجل يُطلِّق امرأته ما شاء أن يطلِّقَها وإن طلَّقها مئةً أو أكثر، إذا ارتَجَعَها قبل أن تنقضي عِدَّتُها، حتى قال الرجل لامرأته: والله لا أطلِّقُكِ فتبيني مني، ولا آوِيكِ إليَّ، قالت: وكيف ذاك؟ قال: أطلِّقك وكلَّما هَمَّت عِدَّتُك أن تنقضيَ ارتجعتُك، ثم أطلِّقُك، وأفعل هكذا، فشكت المرأة ذلك إلى عائشة، فذَكَرَت ذلك عائشةُ للنبي ﷺ، فَسَكَتَ فلم يقل شيئًا حتى نزل القرآن: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [البقرة:229]، [فاستأنَفَ الناسُ الطلاقَ، مَن شاءَ طلَّق ومَن شاءَ لم يطلِّقْ] (1). [
هذا حديث] (2) صحيح الإسناد، ولم يتكلَّم أحدٌ في يعقوب بن حميد بحُجَّة، وناظَرَني شيخُنا أبو أحمد الحافظ وذكر أنَّ البخاري روى عنه في "الصحيح"، فقلت: هذا يعقوبُ بن محمد الزُّهْري، وثَبَتَ هو على ما قال (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3106 - قد ضعفه غير واحد
هذا حديث] (2) صحيح الإسناد، ولم يتكلَّم أحدٌ في يعقوب بن حميد بحُجَّة، وناظَرَني شيخُنا أبو أحمد الحافظ وذكر أنَّ البخاري روى عنه في "الصحيح"، فقلت: هذا يعقوبُ بن محمد الزُّهْري، وثَبَتَ هو على ما قال (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3106 - قد ضعفه غير واحد
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (پہلے) مرد اپنی بیوی کو جتنی بار چاہتا طلاق دے دیتا تھا، اگرچہ وہ سو بار یا اس سے بھی زیادہ طلاق دے دیتا (تب بھی اسے رجوع کا حق رہتا) بشرطیکہ وہ عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لے، یہاں تک کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم! میں نہ تو تجھے طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہو جائے اور نہ ہی تجھے اپنے پاس (بیوی بنا کر) بساؤں گا، اس نے پوچھا: یہ کیسے ممکن ہے؟ اس نے کہا: میں تجھے طلاق دوں گا اور جب بھی تیری عدت ختم ہونے کے قریب ہوگی میں تجھ سے رجوع کر لوں گا، پھر طلاق دے دوں گا اور اسی طرح کرتا رہوں گا، اس خاتون نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کی شکایت کی، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ ”طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے، پھر یا تو اچھے طریقے سے روک لینا ہے یا بھلے طریقے سے رخصت کر دینا ہے۔“ [سورة البقرة: 229]، چنانچہ اس کے بعد لوگوں نے نئے سرے سے طلاق کے معاملے کو شروع کیا، جس نے چاہا طلاق دی اور جس نے چاہا (نکاح) برقرار رکھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور یعقوب بن حمید کے خلاف کسی نے کوئی مدلل جرح نہیں کی، میرے شیخ ابو احمد الحافظ نے مجھ سے اس پر بحث کی اور ذکر کیا کہ امام بخاری نے ان سے ”صحیح“ میں روایت لی ہے، تو میں نے کہا: یہ یعقوب بن محمد زہری ہیں، اور وہ اپنے قول پر قائم رہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور یعقوب بن حمید کے خلاف کسی نے کوئی مدلل جرح نہیں کی، میرے شیخ ابو احمد الحافظ نے مجھ سے اس پر بحث کی اور ذکر کیا کہ امام بخاری نے ان سے ”صحیح“ میں روایت لی ہے، تو میں نے کہا: یہ یعقوب بن محمد زہری ہیں، اور وہ اپنے قول پر قائم رہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، أخبرنا وَكِيع، حدثنا الفضل بن دَلْهَم عن الحسن، عن مَعقِل بن يَسَار: أنَّ أخته طلَّقها زوُجها، فأراد أن يراجعَها فمَنَعَها معقلٌ، فأنزل الله في ذلك: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [البقرة: 232] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (1)!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3107 - الفضل بن دلهم ضعفه ابن معين وقواه غيره
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (1)!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3107 - الفضل بن دلهم ضعفه ابن معين وقواه غيره
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی، پھر (عدت کے بعد) اس نے دوبارہ نکاح کا ارادہ کیا تو معقل رضی اللہ عنہ نے اسے روک دیا، تب اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو تم انہیں اپنے (سابقہ) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جبکہ وہ آپس میں معروف طریقے پر راضی ہو جائیں۔“ [سورة البقرة: 232]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔