حدیث نمبر: 3144
أخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، أخبرنا وَكِيع، حدثنا الفضل بن دَلْهَم عن الحسن، عن مَعقِل بن يَسَار: أنَّ أخته طلَّقها زوُجها، فأراد أن يراجعَها فمَنَعَها معقلٌ، فأنزل الله في ذلك: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [البقرة: 232] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (1)!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3107 - الفضل بن دلهم ضعفه ابن معين وقواه غيره
حافظ طلحہ بابر

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی، پھر (عدت کے بعد) اس نے دوبارہ نکاح کا ارادہ کیا تو معقل رضی اللہ عنہ نے اسے روک دیا، تب اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو تم انہیں اپنے (سابقہ) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جبکہ وہ آپس میں معروف طریقے پر راضی ہو جائیں۔“ [سورة البقرة: 232]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3144
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد الفضل بن دلهم ليس بذاك القوي، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه"، لكنه يعتبر به، وقد توبع فيما سلف برقم (2753).» [ترقيم الرساله 3144] [ترقيم الشركة 3125] [ترقيم العلميه 3107]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد الفضل بن دلهم ليس بذاك القوي، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه"، لكنه يعتبر به، وقد توبع فيما سلف برقم (2753).
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند فضل بن دلہم کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں ’حسن‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: فضل بن دلہم اتنے قوی نہیں ہیں، اسی وجہ سے ذہبی نے "تلخیص" میں اسے معلول قرار دیا ہے، لیکن ان کا اعتبار کیا جاتا ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے جیسا کہ پیچھے نمبر (2753) پر گزر چکا ہے۔
(1) بل أخرجه البخاري بنحوه لكن من غير هذا الوجه عن الحسن البصري.
نوٹ / توضیح: بلکہ بخاری نے اس کی مثل روایت کیا ہے لیکن اس طریق کے علاوہ سے حسن بصری سے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3144 سے ماخوذ ہے۔