المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ ( الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ) باب: آیت “طلاق دو مرتبہ ہے” کے نازل ہونے کا سبب
أخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، أخبرنا وَكِيع، حدثنا الفضل بن دَلْهَم عن الحسن، عن مَعقِل بن يَسَار: أنَّ أخته طلَّقها زوُجها، فأراد أن يراجعَها فمَنَعَها معقلٌ، فأنزل الله في ذلك: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [البقرة: 232] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (1)!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3107 - الفضل بن دلهم ضعفه ابن معين وقواه غيرهسیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی، پھر (عدت کے بعد) اس نے دوبارہ نکاح کا ارادہ کیا تو معقل رضی اللہ عنہ نے اسے روک دیا، تب اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو تم انہیں اپنے (سابقہ) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جبکہ وہ آپس میں معروف طریقے پر راضی ہو جائیں۔“ [سورة البقرة: 232]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند فضل بن دلہم کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں ’حسن‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: فضل بن دلہم اتنے قوی نہیں ہیں، اسی وجہ سے ذہبی نے "تلخیص" میں اسے معلول قرار دیا ہے، لیکن ان کا اعتبار کیا جاتا ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے جیسا کہ پیچھے نمبر (2753) پر گزر چکا ہے۔
(1) بل أخرجه البخاري بنحوه لكن من غير هذا الوجه عن الحسن البصري.
نوٹ / توضیح: بلکہ بخاری نے اس کی مثل روایت کیا ہے لیکن اس طریق کے علاوہ سے حسن بصری سے۔