أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا عبد الله بن جعفر، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن أبي إسحاق، عن زائدة بن عُمير قال: سألت ابنَ عبَّاس عن العَزْل، فقال: إنكم قد أكثرتُم، فإن كان قال فيه رسولُ الله ﷺ شيئًا، فهو كما قال، وإن لم يكن قال فيه شيئًا، فأنا أقول: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [البقرة:223]، فإن شئتم فاعزِلُوا، وإن شئتم فلا تَفعَلوا (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3104 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3104 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ زائدہ بن عمیر نے ان سے عزل (بچہ دانی سے باہر مادہ منویہ خارج کرنے) کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: تم لوگوں نے اس مسئلے پر بہت کلام کر رکھا ہے، پس اگر اس بارے میں رسول اللہ ﷺ نے کوئی حکم فرمایا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا آپ ﷺ نے فرمایا، اور اگر آپ ﷺ نے اس بارے میں خاموشی اختیار فرمائی ہے تو میں یہ کہتا ہوں: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، پس اپنی کھیتیوں میں جہاں سے چاہو آؤ۔“ [سورة البقرة: 223]، لہٰذا اگر تم چاہو تو عزل کرو اور اگر چاہو تو نہ کرو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرحمن بن محمد المحارِبي، عن محمد بن إسحاق سَمِعَ أبانَ بن صالح يحدِّث عن مجاهد قال: عَرَضتُ القرآن على ابن عبَّاس ثلاثَ عَرَضات، أُوقِفُه على كل آية أسألُه فيما أُنزلت وكيف كانت، فأَتيتُ على قوله: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ الآية، قال: كان هذا الحيُّ من المهاجرين يَشرَحُون النساءَ شَرْحًا مُنكَرًا حيثما لَقُوهُنَّ مُقبلاتٍ ومدبراتٍ، فلما قَدِموا المدينةَ تزوَّجوا النساءَ من الأنصار، فأرادوهنَّ على ما كانوا يفعلون بالمهاجرات، فأنكرنَ ذلك فشَكَيْنَ ذلك إلى رسول الله ﷺ، فأنزل الله ﷿: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾، يقول: مُقبِلاتٍ ومُدبِراتٍ من دُبُرِها بعد أن يكون للفَرْج، قال ابن عبَّاس: وإنما كان من قِبَل دُبُرها في قُبُلها (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3105 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3105 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو تین مرتبہ پورا قرآن پیش کیا، میں انہیں ہر آیت پر روکتا اور ان سے اس کے نزول اور پس منظر کے بارے میں سوال کرتا تھا، جب میں اس آیت ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] پر پہنچا تو انہوں نے بتایا: مہاجرین کا یہ قبیلہ اپنی عورتوں کو (جماع کے وقت) مختلف پوزیشنز میں لٹایا کرتے تھے، خواہ وہ سامنے سے ہوں یا پیچھے سے، جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے انصاری عورتوں سے نکاح کیا اور ان کے ساتھ بھی ویسا ہی کرنا چاہا جیسا وہ مہاجر عورتوں کے ساتھ کرتے تھے، انصاری خواتین نے اس بات کو ناپسند کیا اور رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، پس اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ“، اس کا مفہوم یہ ہے کہ سامنے سے ہو یا پیچھے سے، بشرطیکہ وہ مقامِ ولادت (شرمگاہ) میں ہو، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وضاحت کی کہ اس کا مطلب پیچھے کی جانب سے ہو کر شرمگاہ ہی میں آنا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔