حدیث نمبر: 3142
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرحمن بن محمد المحارِبي، عن محمد بن إسحاق سَمِعَ أبانَ بن صالح يحدِّث عن مجاهد قال: عَرَضتُ القرآن على ابن عبَّاس ثلاثَ عَرَضات، أُوقِفُه على كل آية أسألُه فيما أُنزلت وكيف كانت، فأَتيتُ على قوله: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ الآية، قال: كان هذا الحيُّ من المهاجرين يَشرَحُون النساءَ شَرْحًا مُنكَرًا حيثما لَقُوهُنَّ مُقبلاتٍ ومدبراتٍ، فلما قَدِموا المدينةَ تزوَّجوا النساءَ من الأنصار، فأرادوهنَّ على ما كانوا يفعلون بالمهاجرات، فأنكرنَ ذلك فشَكَيْنَ ذلك إلى رسول الله ﷺ، فأنزل الله ﷿: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾، يقول: مُقبِلاتٍ ومُدبِراتٍ من دُبُرِها بعد أن يكون للفَرْج، قال ابن عبَّاس: وإنما كان من قِبَل دُبُرها في قُبُلها (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3105 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو تین مرتبہ پورا قرآن پیش کیا، میں انہیں ہر آیت پر روکتا اور ان سے اس کے نزول اور پس منظر کے بارے میں سوال کرتا تھا، جب میں اس آیت ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] پر پہنچا تو انہوں نے بتایا: مہاجرین کا یہ قبیلہ اپنی عورتوں کو (جماع کے وقت) مختلف پوزیشنز میں لٹایا کرتے تھے، خواہ وہ سامنے سے ہوں یا پیچھے سے، جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے انصاری عورتوں سے نکاح کیا اور ان کے ساتھ بھی ویسا ہی کرنا چاہا جیسا وہ مہاجر عورتوں کے ساتھ کرتے تھے، انصاری خواتین نے اس بات کو ناپسند کیا اور رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، پس اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ“، اس کا مفہوم یہ ہے کہ سامنے سے ہو یا پیچھے سے، بشرطیکہ وہ مقامِ ولادت (شرمگاہ) میں ہو، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وضاحت کی کہ اس کا مطلب پیچھے کی جانب سے ہو کر شرمگاہ ہی میں آنا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3142
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن. وقد سلف برقم (2827).» [ترقيم الرساله 3142] [ترقيم الشركة 3123] [ترقيم العلميه 3105]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن. وقد سلف برقم (2827).
درجۂ حدیث: یہ حدیث ’صحیح لغیرہ‘ ہے، اور یہ سند ’حسن‘ ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ نمبر (2827) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3142 سے ماخوذ ہے۔