حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرحمن بن محمد المحارِبي، عن محمد بن إسحاق سَمِعَ أبانَ بن صالح يحدِّث عن مجاهد قال: عَرَضتُ القرآن على ابن عبَّاس ثلاثَ عَرَضات، أُوقِفُه على كل آية أسألُه فيما أُنزلت وكيف كانت، فأَتيتُ على قوله: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ الآية، قال: كان هذا الحيُّ من المهاجرين يَشرَحُون النساءَ شَرْحًا مُنكَرًا حيثما لَقُوهُنَّ مُقبلاتٍ ومدبراتٍ، فلما قَدِموا المدينةَ تزوَّجوا النساءَ من الأنصار، فأرادوهنَّ على ما كانوا يفعلون بالمهاجرات، فأنكرنَ ذلك فشَكَيْنَ ذلك إلى رسول الله ﷺ، فأنزل الله ﷿: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾، يقول: مُقبِلاتٍ ومُدبِراتٍ من دُبُرِها بعد أن يكون للفَرْج، قال ابن عبَّاس: وإنما كان من قِبَل دُبُرها في قُبُلها (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3105 - على شرط مسلممجاہد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو تین مرتبہ پورا قرآن پیش کیا، میں انہیں ہر آیت پر روکتا اور ان سے اس کے نزول اور پس منظر کے بارے میں سوال کرتا تھا، جب میں اس آیت ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] پر پہنچا تو انہوں نے بتایا: مہاجرین کا یہ قبیلہ اپنی عورتوں کو (جماع کے وقت) مختلف پوزیشنز میں لٹایا کرتے تھے، خواہ وہ سامنے سے ہوں یا پیچھے سے، جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے انصاری عورتوں سے نکاح کیا اور ان کے ساتھ بھی ویسا ہی کرنا چاہا جیسا وہ مہاجر عورتوں کے ساتھ کرتے تھے، انصاری خواتین نے اس بات کو ناپسند کیا اور رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، پس اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ“، اس کا مفہوم یہ ہے کہ سامنے سے ہو یا پیچھے سے، بشرطیکہ وہ مقامِ ولادت (شرمگاہ) میں ہو، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وضاحت کی کہ اس کا مطلب پیچھے کی جانب سے ہو کر شرمگاہ ہی میں آنا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث ’صحیح لغیرہ‘ ہے، اور یہ سند ’حسن‘ ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ نمبر (2827) پر گزر چکی ہے۔