کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: رفث سے مراد عورتوں سے جنسی گفتگو اور تعلق ہے
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير عن الأعمش، عن زياد بن حُصَين، عن أبي العاليَة قال: كنت أَمشي مع ابن عبَّاس وهو مُحرِمٌ، وهو يَرتجِزُ بالإبل وهو يقول: وهنَّ يَمشِينَ بنا هَمِيسا … ..................... قال: فقلت: أترفُتُ وأنت محرمٌ؟! قال: إنما الرَّفَثُ ما رُوجِعَ به النساءُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3093 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوالعالیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا اور وہ حالتِ احرام میں تھے، وہ اونٹوں کو ہنکانے کے لیے حدی خوانی (اشعار) کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”اور وہ اونٹنیاں ہمیں دبی آواز میں چلتے ہوئے لے جا رہی ہیں...“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی کہ کیا آپ احرام کی حالت میں فحش کلامی («الرفث») کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ” «الرفث» (فحش کلامی) تو وہ ہے جو عورتوں سے (جنس کے متعلق) کی جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3130
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، جرير: هو ابن عبد الحميد، وأبو العالية: هو رفيع بن مِهران.» [ترقيم الرساله 3130] [ترقيم الشركة 3111] [ترقيم العلميه 3093]
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا يَعلَى بن عُبيد، حدثنا محمد بن إسحاق، عن نافع، عن ابن عمر قال: الرَّفَث: الجِماع، والفُسوق: ما أُصِيبَ من معاصي الله من صيدٍ وغيره، والجِدَال: السِّباب والمنازَعة (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3094 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”«الرفث» سے مراد جماع (ہم بستری) ہے، ”«الفسوق» سے مراد اللہ کی معصیت کے کام ہیں جیسے (حالتِ احرام میں) شکار کرنا وغیرہ، اور «الجدال» سے مراد گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3131
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق الراوي عن نافع: وهو ابن يسار صاحب السيرة.» [ترقيم الرساله 3131] [ترقيم الشركة 3112] [ترقيم العلميه 3094]
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه قال: قُرئ على يحيى بن جعفر وأنا أسمع: حدثنا حماد بن مَسعَدة، حدثنا ابن أبي ذِئْب، عن عطاء، عن عُبيد بن عُمير، عن ابن عبَّاس: كانوا في أول الحج يبتاعون بمِنًى بسوق المَجَاز ومواسم الحج، فلما أُنزل القرآن خافوا البيعَ، فأنزل الله ﷿: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: 198] في مواسم الحجِّ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3095 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حج کے ابتدائی دور میں لوگ منیٰ، سوق المجاز اور حج کے دیگر مقامات پر خرید و فروخت کیا کرتے تھے، پھر جب قرآن نازل ہوا تو وہ تجارت کرنے سے ڈرنے لگے، تب اللہ عزوجل نے حج کے ایام کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ ”تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم (تجارت کے ذریعے) اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ [سورة البقرة: 198]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3132
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،» [ترقيم الرساله 3132] [ترقيم الشركة 3113] [ترقيم العلميه 3095]