المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
إِنَّمَا الرَّفَثُ مَا رُوجِعَ بِهِ النِّسَاءُ باب: رفث سے مراد عورتوں سے جنسی گفتگو اور تعلق ہے
حدیث نمبر: 3132
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه قال: قُرئ على يحيى بن جعفر وأنا أسمع: حدثنا حماد بن مَسعَدة، حدثنا ابن أبي ذِئْب، عن عطاء، عن عُبيد بن عُمير، عن ابن عبَّاس: كانوا في أول الحج يبتاعون بمِنًى بسوق المَجَاز ومواسم الحج، فلما أُنزل القرآن خافوا البيعَ، فأنزل الله ﷿: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: 198] في مواسم الحجِّ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3095 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حج کے ابتدائی دور میں لوگ منیٰ، سوق المجاز اور حج کے دیگر مقامات پر خرید و فروخت کیا کرتے تھے، پھر جب قرآن نازل ہوا تو وہ تجارت کرنے سے ڈرنے لگے، تب اللہ عزوجل نے حج کے ایام کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ ”تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم (تجارت کے ذریعے) اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ [سورة البقرة: 198]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (1734) عن محمد بن بشار، عن حماد بن مسعدة، بهذا الإسناد. وقد سلف برقم (1666).
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد نے (1734) میں محمد بن بشار سے، انہوں نے حماد بن مسعدہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ نمبر (1666) پر گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (1734) عن محمد بن بشار، عن حماد بن مسعدة، بهذا الإسناد. وقد سلف برقم (1666).
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد نے (1734) میں محمد بن بشار سے، انہوں نے حماد بن مسعدہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ نمبر (1666) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3132 سے ماخوذ ہے۔