حدیث نمبر: 3130
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير عن الأعمش، عن زياد بن حُصَين، عن أبي العاليَة قال: كنت أَمشي مع ابن عبَّاس وهو مُحرِمٌ، وهو يَرتجِزُ بالإبل وهو يقول: وهنَّ يَمشِينَ بنا هَمِيسا … ..................... قال: فقلت: أترفُتُ وأنت محرمٌ؟! قال: إنما الرَّفَثُ ما رُوجِعَ به النساءُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3093 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

ابوالعالیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا اور وہ حالتِ احرام میں تھے، وہ اونٹوں کو ہنکانے کے لیے حدی خوانی (اشعار) کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”اور وہ اونٹنیاں ہمیں دبی آواز میں چلتے ہوئے لے جا رہی ہیں...“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی کہ کیا آپ احرام کی حالت میں فحش کلامی («الرفث») کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ” «الرفث» (فحش کلامی) تو وہ ہے جو عورتوں سے (جنس کے متعلق) کی جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3130
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، جرير: هو ابن عبد الحميد، وأبو العالية: هو رفيع بن مِهران.» [ترقيم الرساله 3130] [ترقيم الشركة 3111] [ترقيم العلميه 3093]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. جرير: هو ابن عبد الحميد، وأبو العالية: هو رفيع بن مِهران.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: جریر سے مراد ’ابن عبدالحمید‘ ہیں، اور ابو العالیہ سے مراد ’رفیع بن مہران‘ ہیں۔
وأخرجه البيهقي 5/ 67 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 5/ 67 میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "تفسيره" 2/ 263 - 264 عن محمد بن حميد الرازي، عن جرير به.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے اپنی "تفسیر" 2/ 263 - 264 میں محمد بن حمید الرازی سے، انہوں نے جریر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة (14707 - عوامة)، والطبري 2/ 265 من طريقين عن الأعمش، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ نے (14707 - عوامہ) میں، اور طبری نے 2/ 265 میں اعمش سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وتابع الأعمشَ عليه فِطرُ بن خليفة عند ابن عبد البر في "التمهيد" 19/ 54 فرواه عن زياد بن حصين، عن أبي العالية، عن ابن عبَّاس.
متابعات و شواہد: اور اعمش کی اس پر متابعت فطر بن خلیفہ نے کی ہے جو ابن عبدالبر کی "التمہید" 19/ 54 میں ہے، انہوں نے اسے زیاد بن حصین سے، انہوں نے ابو العالیہ سے، انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
وخالفهما عوف الأعرابي فرواه عن زياد بن حصين، عن أبيه، عن ابن عبَّاس. أخرجه سعيد بن منصور في التفسير من "سننه" (345)، ورواية الأعمش وفطر أصحُّ، على أنه لا يُمنَع أن يكون لزياد بن حصين فيه شيخان، والله تعالى أعلم.
فنی نکتہ / علّت: اور ان دونوں (اعمش اور فطر) کی مخالفت عوف الاعرابی نے کی ہے، چنانچہ انہوں نے اسے زیاد بن حصین سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ اسے سعید بن منصور نے اپنی "سنن" کی تفسیر (345) میں تخریج کیا ہے۔ اور اعمش اور فطر کی روایت زیادہ صحیح ہے، تاہم اس بات میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ زیاد بن حصین کے اس میں دو اساتذہ (شیخان) ہوں، واللہ تعالیٰ اعلم۔
قوله: "ما روجع به النساء" قال ابن الأثير في "النهاية" (رفت): كأنَّ ابن عبَّاس يرى الرفث الذي نهى الله عنه ما خوطبت به المرأة، فأما ما يقوله ولم تسمعه امرأة فغير داخل فيه. قلنا: والجمهور على أنَّ الرفث هو الجِماع ومقدِّماته.
نوٹ / توضیح: ان کے قول "ما روجع به النساء" کے بارے میں ابن اثیر نے "النهاية" (مادہ رفت) میں کہا: گویا کہ ابن عباس کے نزدیک وہ ’رفث‘ جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے وہ ہے جس سے عورت کو خطاب کیا جائے، رہا وہ کلام جو انسان کہتا ہے اور کوئی عورت اسے نہیں سنتی تو وہ اس میں داخل نہیں۔ ہم کہتے ہیں: جمہور کا موقف یہ ہے کہ ’رفث‘ سے مراد جماع اور اس کے مقدمات ہیں۔
والهَميس: ضربٌ من السَّير لا يُسمع له وقعٌ. قاله السَّرَقُسطي في "غريبه" كما في "تخريج أحاديث الكشاف" للزيلعي 1/ 116.
نوٹ / توضیح: "الهَميس": چلنے کی ایک ایسی قسم ہے جس میں قدموں کی چاپ سنائی نہیں دیتی۔ یہ بات سرقسطی نے اپنی "غریب" میں کہی ہے جیسا کہ زیلعی کی "تخريج أحاديث الكشاف" 1/ 116 میں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3130 سے ماخوذ ہے۔