المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ الْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا باب: مشعرِ حرام کے اعتبار سے پوری مزدلفہ کی زمین شامل ہے
حدیث نمبر: 3133
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمَر، عن الزُّهْري، عن سالم، عن ابن عمر قال: المَشعَر الحرام: المُزدلِفةُ كلُّها (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3096 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: «المشعر الحرام» سے مراد پوری مزدلفہ کی سرزمین ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. سالم: هو ابن عبد الله بن عمر. وأخرجه الفاكهي في "أخبار مكة" (2699)، والطبري في "تفسيره" 2/ 288، وكذا ابن حاتم 2/ 353 من طرق عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سالم سے مراد ’ابن عبداللہ بن عمر‘ ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے فاکہی نے "أخبار مكة" (2699) میں، طبری نے اپنی "تفسیر" 2/ 288 میں، اور اسی طرح ابن حاتم نے 2/ 353 میں عبدالرزاق کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سالم سے مراد ’ابن عبداللہ بن عمر‘ ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے فاکہی نے "أخبار مكة" (2699) میں، طبری نے اپنی "تفسیر" 2/ 288 میں، اور اسی طرح ابن حاتم نے 2/ 353 میں عبدالرزاق کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3133 سے ماخوذ ہے۔