المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
مَا أَحْسَنَ مُحْسِنٌ مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا كَافِرٍ إِلَّا أَثَابَهُ اللَّهُ باب: جو بھی نیکی کرنے والا ہو، خواہ مسلمان ہو یا کافر، اللہ اسے اس کا بدلہ ضرور دیتا ہے
حدیث نمبر: 3040
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا العبَّاس بن الوليد بن مَزْيَد، حدثنا محمد بن شعيب، أخبرنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن عاصم، عن أبي رزين، عن أبي يحيى، عن ابن عبَّاس، عن النبي ﷺ: (وإنَّه لَعَلَمٌ لِلسَّاعةِ) [الزخرف: 61] قال: "خروجُ عيسى قبل يوم القيامة" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3003 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت ﴿وَإِنَّهُ لَعَلَمٌ لِلسَّاعَةِ﴾ ”اور بے شک وہ قیامت کی ایک نشانی ہے“ کے بارے میں فرمایا: ”(اس سے مراد) قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا خروج ہے۔“ [سورة الزخرف: 61]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن، إلّا أنَّ المحفوظ فيه عن ابن عبَّاس من قوله موقوفًا لا مرفوعًا ما هو مبيَّن في تعليقنا على "مسند أحمد" 5/ (2918) حيث أخرجه ضمن حديث عن هاشم بن القاسم عن شيبان موقوفًا، وهو الصحيح. وأخرجه كرواية المصنف هنا ابنُ حبان (6817) من طريق الوليد بن مسلم عن شيبان، به. وسيأتي برقم (3716) من حديث عكرمة عن ابن عبَّاس موقوفًا.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے، مگر اس میں ’محفوظ‘ بات یہ ہے کہ یہ ابن عباس کا اپنا قول ہے (موقوفاً) نہ کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان (مرفوعاً)، جیسا کہ "مسند احمد" 5/ (2918) پر ہماری تعلیق میں واضح ہے جہاں اسے ہاشم بن قاسم عن شیبان کی حدیث میں موقوفاً روایت کیا گیا ہے، اور یہی صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے مصنف کی روایت کی طرح ہی ابن حبان (6817) نے ولید بن مسلم عن شیبان کے طریق سے نکالا ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (3716) پر عکرمہ عن ابن عباس کی حدیث سے موقوفاً آئے گا۔
وقراءة ابن عبَّاس (لَعَلَمٌ) بفتح العين واللام، وانظر الكلام على هذه القراءة في تعليقنا على "المسند".
فنی نکتہ / علّت: اور ابن عباس کی قراءت (لَعَلَمٌ) عین اور لام کی زبر (فتحہ) کے ساتھ ہے، اس قراءت پر بحث "المسند" پر ہماری تعلیق میں دیکھیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے، مگر اس میں ’محفوظ‘ بات یہ ہے کہ یہ ابن عباس کا اپنا قول ہے (موقوفاً) نہ کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان (مرفوعاً)، جیسا کہ "مسند احمد" 5/ (2918) پر ہماری تعلیق میں واضح ہے جہاں اسے ہاشم بن قاسم عن شیبان کی حدیث میں موقوفاً روایت کیا گیا ہے، اور یہی صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے مصنف کی روایت کی طرح ہی ابن حبان (6817) نے ولید بن مسلم عن شیبان کے طریق سے نکالا ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (3716) پر عکرمہ عن ابن عباس کی حدیث سے موقوفاً آئے گا۔
وقراءة ابن عبَّاس (لَعَلَمٌ) بفتح العين واللام، وانظر الكلام على هذه القراءة في تعليقنا على "المسند".
فنی نکتہ / علّت: اور ابن عباس کی قراءت (لَعَلَمٌ) عین اور لام کی زبر (فتحہ) کے ساتھ ہے، اس قراءت پر بحث "المسند" پر ہماری تعلیق میں دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3040 سے ماخوذ ہے۔