حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أَبي، سمعتُ يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حَبيب، عن عبد الرحمن بن شُمَاسةَ، عن زيد بن ثابت قال: كنَّا عند رسول الله ﷺ نُؤلِّفُ القرآن من الرِّقَاع، فقال رسول الله ﷺ: "طُوبَى للشَّام"، فقلنا: لأيِّ شيءٍ ذاك؟ فقال: "لأنَّ ملائكةَ الرحمن باسطةٌ أجنِحتَها عليهم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وفيه البيانُ الواضحُ: أنَّ جَمْعَ القرآن لم يكن مرةً واحدةً، فقد جُمِعَ بعضُه بحَضْرة رسول الله ﷺ، ثم جُمِعَ بحَضْرة أبي بكر الصِّدّيق، والجمعُ الثالث - وهو ترتيب السُّوَر - كان في خلافة أمير المؤمنين عثمان، ﵃ أجمعين.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس چمڑے کے ٹکڑوں سے قرآن کریم کو جمع (ترتیب) کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”شام کے لیے خوشخبری (طوبیٰ) ہے“، ہم نے عرض کی: وہ کس لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس لیے کہ رحمان کے فرشتے ان (اہلِ شام) پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں یہ واضح بیان موجود ہے کہ قرآن کا جمع کرنا ایک ہی مرتبہ میں مکمل نہیں ہوا تھا، بلکہ اس کا کچھ حصہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں جمع کیا گیا، پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمع ہوا، اور تیسرا جمع کرنا - جو کہ سورتوں کی موجودہ ترتیب ہے - امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین کی خلافت میں ہوا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث بھی پچھلی حدیث کی طرح "صحیح" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3954)، وابن حبان (114) من طريقين عن وهب بن جرير، بهذا الإسناد.
حوالہ / تخریج: اسے ترمذی (3954) اور ابن حبان (114) نے وہب بن جریر کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حديث حسن. ولم يذكر ابن حبان فيه فضل الشام.
حکمِ ترمذی: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن" ہے۔
نوٹ: ابن حبان نے اس میں شام کی فضیلت کا ذکر نہیں کیا۔
وسيأتي دون ذكر فضل الشام برقم (4263) من طريق إبراهيم بن أبي طالب عن وهب بن جرير.
حوالہ: یہ شام کے ذکر کے بغیر نمبر (4263) پر ابراہیم بن ابی طالب عن وہب بن جریر کے طریق سے آئے گی۔