کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے کی ممانعت
وحدثنا أبو علي، بإسناده سواءً: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن بيع الوَلاءِ وعن هِبَتِه (2). سمعتُ أبا علي الحافظ، يقول: إنما ذكرتُ المتن الثاني ليزولَ به الوَهْم (3) عن ضَمْرة.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الحديث الصحيح المحفوظ عن سَمُرة بن جُندُب:
حافظ طلحہ بابر
ابو علی اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء (آزاد کردہ غلام کی وراثت کا حق) کی بیع اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ میں نے ابو علی حافظ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک میں نے یہ دوسرا متن اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ ضمرہ (نامی راوی) سے متعلق پایا جانے والا وہم دور ہو جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی تائید سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح اور محفوظ حدیث سے ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العتق / حدیث: 2887M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2887M] [ترقيم الشركة 2869]
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن بكر. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَنْظَلي وإسحاق بن منصور المروَزي، قالا: حدثنا محمد بن بكر البُرساني، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عاصم الأحول وقَتَادة، عن الحسن، عن سمُرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن مَلَك ذا رَحِم، فهو حُرٌّ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2852 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے کسی (محرم) رشتہ دار کا مالک بن جائے تو وہ آزاد ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العتق / حدیث: 2888
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وقد ثبت سماع الحسن» [ترقيم الرساله 2888] [ترقيم الشركة 2870] [ترقيم العلميه 2852]