کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ولدِ زنا تین میں بدترین ہے
حدثنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد الحافظ، حدثنا أبو الربيع الزَّهْراني وعثمان بن أبي شَيْبة وزهير بن حَرْب، قالوا: حدثنا جَرير، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "ولدُ الزنى شَرُّ الثلاثة". قال أبو هريرة: لأن أُمتِّعَ بسوطٍ في سبيل الله، أحبُّ إليَّ من أن أُعتق ولدَ زِنْيةٍ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث أبي سلمة عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2853 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولد الزنا (بدکاری کی اولاد) تینوں (والد، والدہ اور خود) میں سے زیادہ برا ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اللہ کی راہ میں ایک کوڑا (بطور سامانِ جہاد) دینا اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں کسی ولد الزنا کو آزاد کروں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العتق / حدیث: 2889
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو الربيع الزهراني: هو سليمان بن داود، وجرير: هو ابن عبد الحميد.» [ترقيم الرساله 2889] [ترقيم الشركة 2871] [ترقيم العلميه 2853]
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو عَوَانة عن عُمر بن أبي سلَمة، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "ولدُ الزنى شرُّ الثلاثةِ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولد الزنا (بدکاری کی اولاد) تینوں میں سے زیادہ شر والا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العتق / حدیث: 2890
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، لكن سيأتي توجيه عائشة أم المؤمنين له على وفق القصة التي ورد الحديثُ لأجلها بعده، وهذا إسناد حسن في المتابعات من أجل عمر بن أبي سلمة - وهو ابن عبد الرحمن بن عوف - وقد روى المصنف الحديث قبلَه من وجه آخر صحيح عن أبي هريرة. أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليَشكُري.» [ترقيم الرساله 2890] [ترقيم الشركة 2872]
فحدَّثَنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا الحسن بن عُمر بن شَقيق، حدثنا سلمة بن الفَضْل، عن محمد بن إسحاق، عن الزُّهْري، عن عُرْوة بن الزُّبَير، قال: بلغ عائشةَ أنَّ أبا هُريرة يقول: إنَّ رسول الله ﷺ قال: "لَأن أُمتِّعَ بسَوطي في سبيل الله، أحبُّ إليَّ مِن أن أُعتق ولدَ الزنى"، وإنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "ولدُ الزنى شرُّ الثلاثة، وإنَّ الميتَ يُعذَّب ببُكاء الحيّ". فقالت عائشة: رَحِمَ الله أبا هريرة أساءَ سمعًا وأساء إجابةً: أما قوله: "لأن أُمتِّعَ بسَوطٍ في سبيل الله أحبُّ إليَّ من أن أُعتقَ ولدَ الزنى"، إنها لما نزلت ﴿فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ (11) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ﴾ [البلد: 11، 12]، قيل: يا رسول الله، ما عندنا ما نُعتِق إلّا أنَّ أحدَنا له الجاريةُ السوداء تخدُمه وتسعى عليه، فلو أمرناهُنّ فزنَين فجئن بأولادٍ فأعتقناهُم، فقال رسول الله ﷺ: "لَأن أُمتِّعَ بسَوطٍ في سبيل الله، أحبُّ إليَّ من أن آمُرَ بالزنى، ثم أُعتِقَ الولدَ". وأما قوله: "ولدُ الزّنى شرُّ الثلاثة" فلم يكنِ الحديثُ على هذا، إنما كان رجلٌ من المنافقين يؤذي رسولَ الله ﷺ، فقال: "من يَعذِرُني من فلان؟ " قيل: يا رسول الله، إنه مع ما به ولدُ الزنى، فقال رسول الله ﷺ: "هو شرُّ الثلاثةِ"، والله ﷿ يقول: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [الإسراء: 15]. وأما قوله: "إن الميتَ ليُعذَّبُ ببُكاء الحيّ" فلم يكنِ الحديثُ على هذا، ولكن رسول الله ﷺ مرَّ بدارِ رجلٍ من اليهود قد مات وأهلُه يبكون عليه، فقال: "إنهم يَبكُون عليه، وإنه ليُعذَّبُ"، والله ﷿ يقول: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ [البقرة: 286] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2855 - سلمة لم يحتج به مسلم وقد وثق وضعفه ابن راهويه_x000D_ وَأَمَّا قَوْلُهُ: «وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ» فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، إِنَّمَا كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ فُلَانٍ؟» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَعَ مَا بِهِ وَلَدُ زِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ» وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164]_x000D_ وَأَمَّا قَوْلُهُ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ» ، فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ مَاتَ، وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «إِنَّهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ» ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} [البقرة: 286] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک یہ بات پہنچی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں اپنے کوڑے سے فائدہ اٹھانا (یعنی جہاد کرنا) مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں کسی ولد الزنا (بدکاری سے پیدا ہونے والی اولاد) کو آزاد کروں“ اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولد الزنا تینوں (والد، والدہ اور خود) میں سے زیادہ برا ہے، اور میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے“۔ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوہریرہ پر رحم فرمائے، انہوں نے سننے میں بھی خطا کی اور (بات پہنچانے کے) جواب میں بھی خطا کی؛ جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ ”اللہ کی راہ میں کوڑے سے فائدہ اٹھانا مجھے ولد الزنا کو آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے“ تو اصل واقعہ یہ ہے کہ جب یہ آیات ﴿فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ (11) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ﴾ [البلد: 11، 12] نازل ہوئیں تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس آزاد کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم میں سے کسی کے پاس کالی لونڈی ہے جو اس کی خدمت کرتی ہے، تو کیا ہم انہیں (بدکاری کا) حکم دیں تاکہ وہ اولاد پیدا کریں اور پھر ہم ان اولادوں کو آزاد کر دیں؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں اپنے کوڑے سے کام لینا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں بدکاری کا حکم دوں اور پھر اس اولاد کو آزاد کروں“۔ اور جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ ”ولد الزنا تینوں میں سے زیادہ برا ہے“ تو یہ حدیث اس طرح نہ تھی، بلکہ ایک منافق آدمی رسول اللہ ﷺ کو اذیت دیا کرتا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو فلاں کے معاملے میں میرا عذر قبول کرے؟“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ اپنے کرتوتوں کے ساتھ ساتھ ولد الزنا بھی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ (اپنے افعال کی بنا پر) تینوں میں سے زیادہ برا ہے“، جبکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [الإسراء: 15] ”اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“۔ اور جہاں تک اس قول کا تعلق ہے کہ ”میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے“ تو یہ حدیث بھی اس طرح نہ تھی، بلکہ رسول اللہ ﷺ ایک یہودی کے گھر کے پاس سے گزرے جو مر گیا تھا اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں جبکہ اسے (اس کے کفر کی وجہ سے) عذاب دیا جا رہا ہے“، جبکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ [البقرة: 286] ”اللہ کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العتق / حدیث: 2891
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لولا أنَّ فيه عنعنة محمد بن إسحاق
تخریج حدیث «إسناده حسن لولا أنَّ فيه عنعنة محمد بن إسحاق، فهو مدلِّس، وسلمة بن الفضل - وهو الأبرش - من أوثق الناس في ابن إسحاق، وروايته للمغازي عنه أتم الروايات كما قال ابن معين. قلنا: فلا عجب إذًا أن لا يذكر هذا الخبرَ غيرُه عن ابن إسحاق، وقال البيهقي في "معرفة ...» [ترقيم الرساله 2891] [ترقيم الشركة 2873] [ترقيم العلميه 2855]