حدیث نمبر: 2887M
وحدثنا أبو علي، بإسناده سواءً: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن بيع الوَلاءِ وعن هِبَتِه (2). سمعتُ أبا علي الحافظ، يقول: إنما ذكرتُ المتن الثاني ليزولَ به الوَهْم (3) عن ضَمْرة.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الحديث الصحيح المحفوظ عن سَمُرة بن جُندُب:
حافظ طلحہ بابر

ابو علی اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء (آزاد کردہ غلام کی وراثت کا حق) کی بیع اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ میں نے ابو علی حافظ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک میں نے یہ دوسرا متن اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ ضمرہ (نامی راوی) سے متعلق پایا جانے والا وہم دور ہو جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی تائید سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح اور محفوظ حدیث سے ہوتی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العتق / حدیث: 2887M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2887M] [ترقيم الشركة 2869]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) سيأتي تخريج حديث الولاء هذا عند الحديث رقم (8189).
نوٹ / توضیح: ولاء والی اس حدیث کی تخریج حدیث نمبر (8189) پر آئے گی۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الزُّهْري، ثم عُدّلت في (ز).
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "الزہری" بن گیا تھا، پھر نسخہ (ز) میں اس کی اصلاح کی گئی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2887 سے ماخوذ ہے۔