حدیث نمبر: 2887
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا محمد بن الحسن بن قُتيبة وعبد الله بن محمد بن سَلْم، قالا: حدثنا إبراهيم بن محمد بن يوسف الفِرْيابي، حدثنا ضَمْرة بن ربيعة، عن سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن مَلَك ذا رَحِمٍ مَحْرَمٍ، فهو حُرٌّ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2851 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے کسی ذی رحم محرم (قریبی رشتہ دار) کا مالک بن جائے تو وہ (خود بخود) آزاد ہے۔“ نیز اسی سند کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے «الوَلاءِ» (ولاء یعنی آزاد کردہ غلام کی وراثت و تعلق) کی بیع اور اس کے ہبہ سے منع فرمایا۔ میں نے ابوعلی حافظ کو کہتے سنا کہ میں نے دوسرا متن صرف اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ راوی ضمرہ کے متعلق (پہلے متن میں) ہونے والا وہم زائل ہو جائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کی، اور اس کی شاہد سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح و محفوظ حدیث ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العتق / حدیث: 2887
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن بعض أهل العلم أنكره على ضمرة، وأنه انفرد به بهذا الإسناد، منهم أحمد بن حنبل والترمذي والنسائي والبيهقي، ولم يعبأ بهذا الإعلال آخرون من أهل العلم فصحَّحوه، منهم ابن الجارود وأبو علي الحافظ وابن حزم وعبد الحق الإشبيلي وابن القطان الفاسي وابن التركماني، ...» [ترقيم الرساله 2887] [ترقيم الشركة 2868] [ترقيم العلميه 2851]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن بعض أهل العلم أنكره على ضمرة، وأنه انفرد به بهذا الإسناد، منهم أحمد بن حنبل والترمذي والنسائي والبيهقي، ولم يعبأ بهذا الإعلال آخرون من أهل العلم فصحَّحوه، منهم ابن الجارود وأبو علي الحافظ وابن حزم وعبد الحق الإشبيلي وابن القطان الفاسي وابن التركماني، وقد روي من حديث سمرة بن جندب كما نبّه عليه المصنف وسيخرجه بعده.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے۔ اس سند کے رجال ثقہ ہیں، لیکن بعض اہل علم (احمد، ترمذی، نسائی، بیہقی) نے ضمرہ پر اس کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس سند کے ساتھ منفرد ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: دوسرے اہل علم (ابن الجارود، ابو علی الحافظ، ابن حزم، عبد الحق الاشبیلی، ابن القطان، ابن الترکمانی) نے اس اعتراض (اعلال) کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسے صحیح کہا ہے۔ یہ سمرہ بن جندب کی حدیث سے بھی مروی ہے جیسا کہ مصنف نے تنبیہ کی اور آگے تخریج کریں گے۔
وأخرجه ابن ماجه (2525) عن راشد بن سعيد الرملي وعُبيد الله بن الجهم الأنماطي، والنسائي (4877) عن عيسى بن محمد الرملي وعيسى بن يونس الفاخوري، كلهم عن ضمرة بن ربيعة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2525) نے راشد بن سعید الرملی اور عبید اللہ بن الجہم الانماطی سے؛ اور نسائی (4877) نے عیسیٰ بن محمد الرملی اور عیسیٰ بن یونس الفاخوری سے تخریج کیا ہے۔ یہ سب ضمرہ بن ربیعہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وذو الرحم المحرَم: هم الأقارب، ويقع على كل من يجمع بينك وبينه نَسبٌ.
نوٹ / توضیح: "ذو الرحم المحرَم": یہ قریبی رشتہ دار ہیں، اور اس کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے جس کے ساتھ آپ کا نسبی تعلق ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2887 سے ماخوذ ہے۔