أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصيرفي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو مَعمَر، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا سعيد بن جُمْهان، حدثني سَفينة قال: قالت لي أم سَلَمة: أُعتقُكَ وأَشترِطُ عليك أن تخدُم رسولَ الله ﷺ ما عشتَ؟ قال: قلت: لو أنك لم تشترطي عليَّ، ما فارقتُ رسولَ الله ﷺ ما عشتُ؟ قال: فأعتقتْني واشترطَتْ عليَّ أن أخدُم رسولَ الله ﷺ ما عشتُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2849 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2849 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں تمہیں اس شرط پر آزاد کرتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرو گے؟ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اگر آپ مجھ پر یہ شرط عائد نہ بھی کرتیں تب بھی میں جب تک زندہ رہتا رسول اللہ ﷺ کی خدمت سے جدا نہ ہوتا، چنانچہ انہوں نے مجھے آزاد کر دیا اور مجھ پر یہی شرط لگائی کہ میں زندگی بھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت بجا لاؤں گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا علي بن الحسن الهِلالي، حدثنا عبد الله بن الوليد العَدَني، حدثنا سفيان، عن حبيب بن أبي ثابت، عن عطاء، عن عائشة، قالت: قال رجل: أُعتقُ عن أبي (2) يا رسول الله؟ قال: "نعم" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2850 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2850 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے والد کی طرف سے (غلام) آزاد کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔