حدیث نمبر: 2885
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصيرفي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو مَعمَر، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا سعيد بن جُمْهان، حدثني سَفينة قال: قالت لي أم سَلَمة: أُعتقُكَ وأَشترِطُ عليك أن تخدُم رسولَ الله ﷺ ما عشتَ؟ قال: قلت: لو أنك لم تشترطي عليَّ، ما فارقتُ رسولَ الله ﷺ ما عشتُ؟ قال: فأعتقتْني واشترطَتْ عليَّ أن أخدُم رسولَ الله ﷺ ما عشتُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2849 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں تمہیں اس شرط پر آزاد کرتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرو گے؟ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اگر آپ مجھ پر یہ شرط عائد نہ بھی کرتیں تب بھی میں جب تک زندہ رہتا رسول اللہ ﷺ کی خدمت سے جدا نہ ہوتا، چنانچہ انہوں نے مجھے آزاد کر دیا اور مجھ پر یہی شرط لگائی کہ میں زندگی بھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت بجا لاؤں گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العتق / حدیث: 2885
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي من أجل سعيد بن جمهان. أبو معمر: هو عبد الله بن عمرو المُقعَد.» [ترقيم الرساله 2885] [ترقيم الشركة 2866] [ترقيم العلميه 2849]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي من أجل سعيد بن جمهان. أبو معمر: هو عبد الله بن عمرو المُقعَد.
درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند سعید بن جمہان کی وجہ سے "قوی" ہے۔ (سند میں) ابو معمر سے مراد "عبد اللہ بن عمرو المقعد" ہیں۔
وأخرجه أبو داود (3932)، والنسائي (4976) من طريقين عن عبد الوارث بن سعيد، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (3932) اور نسائی (4976) نے عبد الوارث بن سعید سے دو مختلف طریقوں سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وسيأتي مختصرًا برقم (6694) من طريق حماد بن سلمة عن سعيد بن جُهمان.
تفصیلِ روایت: اور یہ روایت مختصراً آگے نمبر (6694) پر حماد بن سلمہ عن سعید بن جمہان کے طریق سے آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2885 سے ماخوذ ہے۔