أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق القاضي وأحمد بن حازم الغِفاري، قالا: حدثنا يعلى بن عُبيد الطَّنافسي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن بُكير بن عبد الله بن الأشَجّ، عن سُليمان بن يَسَار، عن مَيمُونة، قالت: أعتقتُ جاريةً لي، فدخلَ عليَّ النبيُّ ﷺ، وأخبرتُه بعِتقها، قال: "أمَا إنكِ لو كنتِ أعطَيتِيها أَخوالَك، كان أعظمَ لأجرِكِ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2847 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2847 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی، پھر نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کو اس کے آزاد کرنے کی خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سنو! اگر تم یہ لونڈی اپنے ننھیالی رشتہ داروں (ماموں زادوں) کو دے دیتیں تو یہ تمہارے اجر کے لیے زیادہ بڑی بات ہوتی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن سلْمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرَم البَزَّاز، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا أبو عامر صالح بن رُستُم، عن الحسن، عن سعد مولى أبي بكر الصِّدِّيق: أنَّ رسول الله ﷺ قال لأبي بكر الصِّدِّيق - وكان سعد مملوكًا له وكان رسول الله ﷺ يُعجِبُه خدمتُه - فقال رسول الله ﷺ: "يا أبا بكر، أعتِقْ سعدًا" فقال: يا رسول الله، ما لَنا ماهِنٌ غيرُه، فقال رسول الله ﷺ: "أتتكَ الرجالُ، أتتكَ الرجالُ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2848 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2848 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا - جبکہ سعد ان کے مملوک تھے اور رسول اللہ ﷺ کو ان کی خدمت گزاری بہت پسند تھی - تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوبکر! سعد کو آزاد کر دو۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے پاس ان کے علاوہ کوئی خادم نہیں ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس (دیگر خدمت گزار) مرد آ چکے ہیں، تمہارے پاس مرد آ چکے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔