أخبرني أبو حفص أحمد بن أَحْيَد الفقيه ببُخارَى من أصل كتابه، حدثنا أبو علي صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا علي بن حكيم الأَوْدي، حدثنا شَريك، عن إبراهيم بن مهاجر، عن مصعب بن عامر، عن عائشة، أنها قالت: طُلِّقَتِ امرأةٌ فَمَكَثَت ثلاثًا وعشرين ليلةً، فوَضَعتْ حَمْلَها، ثم أتتِ النبيَّ ﷺ فَذَكَرَت ذلك له، فقال لها: "تَزوّجي" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في ذي القَعْدة سنة ثمانٍ وتسعين وثلاثِ مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2834 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في ذي القَعْدة سنة ثمانٍ وتسعين وثلاثِ مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2834 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک عورت کو طلاق دی گئی تو وہ تیئیس راتیں (عدت میں) رہی، پھر اس نے بچہ جن دیا، اس نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”(اب تم) نکاح کر لو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، قال: حدثنا هاشم بن يونس العَصّار بمصر، حدثنا علي بن مَعبَد، حدثنا أبو المَلِيح الرَّقِّي، حدثني عبد الملك بن أبي القاسم، عن أم كُلْثوم بنت عُقبة: أنها كانت تحت الزُّبَير بن العوام فكرهتْه، وكان شديدًا على النساء، فقالت للزُّبير: يا أبا عبد الله، رَوِّحْني بتطليقةٍ، قالت: وذلك حين وجدْتُ الطَّلْق، قال: وما يَنفعُكِ أن أُطلِّقَكِ تطليقةً واحدةً ثم أُراجعَك؟ قالت: إني أجدُني أستَرْوِحُ إلى ذلك، قال: فطلَّقها تطليقةً واحدةً، ثم خرج، فقالت لجاريتها: غَلِّقي الأبواب، قال: فوَضَعَتْ جاريةً، قال: فأُتي الزُّبَير فبُشِّر بها، فقال: مَكَرَت بي ابنةُ أبي مُعَيط، ثم خرج إلى رسول الله ﷺ فذكر ذلك له، فأبانَها منه (1).
هذا حديث غريب صحيح الإسناد. وأبو المَلِيح وإن لم يخرجاه، فغير متَّهم بالوَضْع (2)، فإنه إمام أهل الجزيرة في عصره، وأم كُلثوم هي ابنة عُقبة بن أبي مُعَيط، وهي التي يروي عنها ابنُها حميد بن عبد الرحمن عن رسول الله ﷺ: "ليس بالكذاب الذي يُصلِح بين الناس" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2835 - صحيح غريب
هذا حديث غريب صحيح الإسناد. وأبو المَلِيح وإن لم يخرجاه، فغير متَّهم بالوَضْع (2)، فإنه إمام أهل الجزيرة في عصره، وأم كُلثوم هي ابنة عُقبة بن أبي مُعَيط، وهي التي يروي عنها ابنُها حميد بن عبد الرحمن عن رسول الله ﷺ: "ليس بالكذاب الذي يُصلِح بين الناس" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2835 - صحيح غريب
حافظ طلحہ بابر
ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں مگر انہیں ناپسند کرتی تھیں کیونکہ وہ عورتوں کے معاملے میں سخت مزاج تھے، چنانچہ انہوں نے زبیر سے کہا: اے ابوعبداللہ! مجھے ایک طلاق دے کر سبکدوش (راحت عطا) کر دیں، انہوں نے یہ مطالبہ اس وقت کیا جب انہیں دردِ زہ (بچہ جننے کی تکلیف) شروع ہو چکی تھی، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں ایک طلاق کا کیا فائدہ ہوگا جبکہ میں اس کے بعد تم سے رجوع کر لوں گا؟ انہوں نے کہا: میں اس سے سکون محسوس کروں گی، چنانچہ انہوں نے انہیں ایک طلاق دی اور گھر سے باہر چلے گئے، انہوں نے اپنی لونڈی سے کہا: دروازے بند کر لو، پھر انہوں نے ایک بچی کو جنم دیا، زبیر رضی اللہ عنہ کو جب اس کی خوشخبری دی گئی تو انہوں نے (صورتحال بھانپتے ہوئے) کہا: ابن ابی معیط کی بیٹی نے میرے ساتھ چال چلی ہے، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا تو آپ ﷺ نے انہیں (عدت گزرنے کی بنا پر) ان سے جدا کر دیا۔
یہ حدیث غریب اور صحیح الاسناد ہے، اور ابوملیح اگرچہ شیخین کے راوی نہیں ہیں مگر وہ وضعِ حدیث کے متہم نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنے زمانے میں اہلِ جزیرہ کے امام تھے، اور ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط وہی خاتون ہیں جن سے ان کے بیٹے حمید بن عبدالرحمن رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث روایت کرتے ہیں: ”وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے۔“
یہ حدیث غریب اور صحیح الاسناد ہے، اور ابوملیح اگرچہ شیخین کے راوی نہیں ہیں مگر وہ وضعِ حدیث کے متہم نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنے زمانے میں اہلِ جزیرہ کے امام تھے، اور ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط وہی خاتون ہیں جن سے ان کے بیٹے حمید بن عبدالرحمن رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث روایت کرتے ہیں: ”وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے۔“