أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا أبو النعمان محمد بن الفضل وسليمان بن حَرْب، قالا: حدثنا حماد بن زيد، حدثنا إسحاق بن سعد بن كعب بن عُجْرة، حدثَتْني زينبُ بنت كعب، عن فُرَيعة بنت مالك: أنَّ زوجها خَرَجَ في طلب أعلاج له، فقُتل بطَرَف القَدُّوم - قال حماد: وهو موضعُ ماء - قالت: فأتيتُ النبي ﷺ فذكرتُ ذلك له من حالي، وذكرت النُّقلةَ إلى إخوتي، قالت: فرخَّص لي، فلما تجاوزتُ ناداني، فقال: "امكُثي في بيتِك حتى يبلُغَ الكتابُ أجلَه" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2832 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2832 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کا شوہر اپنے کچھ بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلا اور مقامِ قدوم پر قتل کر دیا گیا، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، اپنی صورتحال بتائی اور اپنے بھائیوں کے گھر منتقل ہونے کی اجازت چاہی، آپ ﷺ نے پہلے اجازت دے دی لیکن جب میں پلٹنے لگی تو مجھے پکارا اور فرمایا: ”اپنے (شوہر کے) گھر میں ہی قیام کرو یہاں تک کہ مقررہ عدت پوری ہو جائے۔“
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد، أنَّ سعد بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة أخبره، أنَّ عمته زينب بنت كعب بن عُجْرة أخبرته، أنها سمعت فُريعة بنت مالك أختَ أبي سعيد الخُدْري قالت: خرج زَوجي في طلب أعبُدٍ له فأدركهم بطَرَف القَدوم فقتلوه، فأتاني نَعْيُه وأنا في دارٍ شاسعةٍ من دُور أهلي، فأتيتُ رسول الله ﷺ فقلت: إنه أتاني نَعْيُ زوجي، وأنا في دارٍ شاسعةٍ من دُور أهلي، ولم يَدَعْ لي نفقةً ولا مالًا، وليس المسكنُ لي، ولو تحوّلْتُ إلى إخوتي وأهلي كان أرفَقَ بي في بعض شأني، فقال: "تَحوّلي"، فلما خرجتُ إلى المسجد - أو (1) الحُجرة - دعاني - أو أُمِر بي فدُعِيتُ له - فقال: "امكُثي في البيت الذي أتاكِ فيه نَعْيُ زوجِك، حتى يَبلُغَ الكتابُ أجلَه"، فاعتددتُ فيه أربعةَ أشهرٍ وعشرًا. قالت: فأرسل عثمانُ بن عفّان، فأتيتُه فحدَّثتُه فأخذَ به (2).
هذا حديث صحيح الإسناد من الوجهين جميعًا، ولم يُخرجاه. رواه مالك بن أنس في "الموطَّأ" (1) عن سعد بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة. قال محمد بن يحيى الذُّهْلي:
هذا حديث صحيح محفُوظ، وهما اثنان سعد بن إسحاق، وهو أشهرُهما، وإسحاق بن سعد بن كعب (2)، وقد روى عنهما جميعًا يحيى بن سعيد الأنصاري، فقد ارتفعت عنهما جميعًا الجهالةُ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2833 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد من الوجهين جميعًا، ولم يُخرجاه. رواه مالك بن أنس في "الموطَّأ" (1) عن سعد بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة. قال محمد بن يحيى الذُّهْلي:
هذا حديث صحيح محفُوظ، وهما اثنان سعد بن إسحاق، وهو أشهرُهما، وإسحاق بن سعد بن كعب (2)، وقد روى عنهما جميعًا يحيى بن سعيد الأنصاري، فقد ارتفعت عنهما جميعًا الجهالةُ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2833 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا (جو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں) سے روایت ہے کہ میرے شوہر اپنے چند بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلے اور مقامِ قدوم کے ایک کنارے پر انہیں پا لیا تو ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا۔ ان کی وفات کی خبر مجھے اس وقت ملی جب میں اپنے میکے کے گھروں سے دور ایک مکان میں مقیم تھی۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ مجھے شوہر کی وفات کی خبر ملی ہے جبکہ میں اپنے خاندان کے گھروں سے دور ایک مکان میں ہوں، اور شوہر نے میرے لیے نہ کوئی نفقہ (خرچہ) چھوڑا ہے، نہ مال، اور نہ ہی یہ رہائشی مکان میرا اپنا ہے، اگر میں اپنے بھائیوں اور خاندان والوں کے پاس منتقل ہو جاؤں تو میرے بعض معاملات میں میرے لیے زیادہ آسانی ہوگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”منتقل ہو جاؤ۔“ پھر جب میں مسجد یا حجرہ مبارک تک پہنچی تو آپ ﷺ نے مجھے پکارا (یا مجھے بلانے کا حکم دیا) اور فرمایا: ”اسی گھر میں ٹھہری رہو جہاں تمہیں اپنے شوہر کی وفات کی خبر ملی ہے، یہاں تک کہ لکھی ہوئی مدت (عدت) پوری ہو جائے۔“ چنانچہ میں نے وہیں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے (اپنی خلافت میں) مجھے بلا بھیجا، میں نے انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اسی پر عمل کیا۔
یہ حدیث دونوں سندوں سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام مالک بن انس نے اسے موطا میں سعد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔ امام محمد بن یحییٰ ذہلی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح اور محفوظ ہے، اور سعد بن اسحاق اور اسحاق بن سعد دو الگ راوی ہیں جن میں سے سعد زیادہ مشہور ہیں، اور ان دونوں سے یحییٰ بن سعید انصاری نے روایت کی ہے، جس سے ان دونوں کی جہالت ختم ہو جاتی ہے۔
یہ حدیث دونوں سندوں سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام مالک بن انس نے اسے موطا میں سعد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔ امام محمد بن یحییٰ ذہلی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح اور محفوظ ہے، اور سعد بن اسحاق اور اسحاق بن سعد دو الگ راوی ہیں جن میں سے سعد زیادہ مشہور ہیں، اور ان دونوں سے یحییٰ بن سعید انصاری نے روایت کی ہے، جس سے ان دونوں کی جہالت ختم ہو جاتی ہے۔