أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد الأسَدي الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذِئْب، حدثني خالي الحارث بن عبد الرحمن، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، قال: كانت تحتي امرأةٌ أُحبُّها، وكان عمر يكرهُها، فقال عمر: طلِّقْها، فأبَيتُ، فذَكَر ذلك للنبي ﷺ، فقال: "أطِعْ أباكَ وطلِّقْها"، فطلَّقتُها (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والحارث بن عبد الرحمن هو: ابن أبي ذُباب المدني خالُ ابن أبي ذئب، قد احتجّا جميعًا به!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2798 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والحارث بن عبد الرحمن هو: ابن أبي ذُباب المدني خالُ ابن أبي ذئب، قد احتجّا جميعًا به!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2798 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے میں محبت کرتا تھا، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے ناپسند کرتے تھے، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اسے طلاق دے دو، میں نے انکار کیا، پھر انہوں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے والد کی اطاعت کرو اور اسے طلاق دے دو“، چنانچہ میں نے اسے طلاق دے دی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ حارث بن عبدالرحمن مدنی، ابن ابی ذئب کے ماموں ہیں اور شیخین نے ان سے احتجاج کیا ہے!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ حارث بن عبدالرحمن مدنی، ابن ابی ذئب کے ماموں ہیں اور شیخین نے ان سے احتجاج کیا ہے!
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل، أخبرنا عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي: أنَّ رجلًا أتى أبا الدَّرْداء، فقال: إنَّ أمي لم تَزَلْ بي حتى تزوجتُ، وإنها تأمُرُني بطلاقِها، وقد أبَتْ عَلَيَّ إلّا ذاك، فقال: ما أنا بالذي آمُرُك أن تَعُقَّ والدتَك، ولا أنا بالذي آمُرُك أن تُطلِّق امرأتَك غير أنك إن شئتَ حدثتُك بما سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "الوالدُ أوسَطُ أبواب الجنة"، فحافِظْ على ذلك الباب إن شئتَ أو أَضِعْه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2799 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2799 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوعبدالرحمن سلمی سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: میری والدہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتیں یہاں تک کہ میں نے شادی کر لی، اور اب وہ مجھے اسے طلاق دینے کا حکم دیتی ہیں، تو انہوں نے فرمایا: میں وہ نہیں ہوں جو تمہیں اپنی والدہ کی نافرمانی کا حکم دوں، اور نہ ہی میں تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیتا ہوں، البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ حدیث سنا دوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”والد (والدین) جنت کا درمیانی دروازہ ہے“، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس دروازے کی حفاظت کرو یا اسے ضائع کر دو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔