کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو شخص اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرے اس کی گردن مارنے کا حکم
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا يحيى بن فَصِيل، حدثنا الحسن بن صالح، عن السُّدِّي، عن عَدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، قال: لَقِيتُ خالي ومعه الرايةُ، قلت: أين تريدُ؟ قال: بَعَثَني النبيُّ ﷺ إلى رجلٍ تَزوّج امرأةَ أبيه من بعدِه، فأمرني أن أضربَ عُنقَه (2)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شواهد عن عَدِيّ بن ثابت، وعن البراء مِن غير حديث عَدِيِّ بن ثابت:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شواهد عن عَدِيّ بن ثابت، وعن البراء مِن غير حديث عَدِيِّ بن ثابت:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری ملاقات اپنے ماموں (سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ) سے ہوئی جبکہ ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، میں نے پوچھا: آپ کا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے نبی کریم ﷺ نے اس شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے بعد اس کی بیوی (اپنی سوتیلی ماں) سے نکاح کر لیا ہے، اور آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کے عدی بن ثابت اور براء سے دیگر شواہد بھی موجود ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کے عدی بن ثابت اور براء سے دیگر شواہد بھی موجود ہیں۔
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الرَّبيع بن الرُّكَين بن الرَّبيع بن عُمَيلة، قال: سمعتُ عديّ بن ثابت يحدِّث عن البراء بن عازب، قال: مَرَّ بنا ناسٌ يَنطلِقون، فقلنا لهم: أين تَذهبُون؟ قالوا: بعثَنا رسولُ الله ﷺ إلى رجلٍ يأتي امرأةَ أبيه أن نَقتُلَه (1). وأما حديث أبي الجَهْم عن البراء:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس سے کچھ لوگ گزرے جو (کسی مہم پر) جا رہے تھے، ہم نے ان سے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے تاکہ ہم اسے قتل کر دیں۔
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا أسباط بن محمد، عن مُطَرِّف، عن أبي الجَهْم، عن البراء بن عازب، قال: إني لأطوفُ على إبلٍ لي ضَلّت في عهد رسول الله ﷺ، فبَيْنا أنا أجُول في أبيات، فإذا أنا برَكْبٍ وفوارسَ جاؤوا فأطافُوا فاستخرجُوا رجلًا، فما سألوه ولا كَلَّموه حتى ضربوا عنقَه، فلما ذهبُوا سألتُ عنه، قالوا: عَرَّس بامرأةِ أبيه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2778 - إسناده مليح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2778 - إسناده مليح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنے ان اونٹوں کو تلاش کر رہا تھا جو گم ہو گئے تھے، اسی دوران میں کچھ گھروں کے پاس گھوم رہا تھا کہ اچانک میں نے سواروں اور شہسواروں کو دیکھا جو آئے اور انہوں نے (ایک گھر کا) گھیراؤ کر لیا اور ایک شخص کو باہر نکالا، انہوں نے اس سے کوئی سوال کیا نہ بات چیت کی یہاں تک کہ اس کی گردن اڑا دی، جب وہ چلے گئے تو میں نے اس کے بارے میں پوچھا، لوگوں نے بتایا: اس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا۔