أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا سفيان، عن منصور والأَعمش، عن ذَرٍّ. وأخبرنا عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل - واللفظُ له - حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرير، عن منصور، عن ذَرٍّ، عن وائل بن مَهَانة السَّعدي، عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ: "يا معشرَ النساء، تَصدَّقْنَ ولو من حُلِيِّكُنَّ، فإنكنَّ أكثرُ أهلِ جهنَّم"، فقالت امرأةٌ ليست من عِلْية النساء: وبِمَ يا رسول الله نحن أكثرُ أهل جهنّم؟ قال: "إنكن تُكثِرنَ اللَّعْن، وتَكفُرنَ العَشِيرَ. وما وُجِدَ من ناقصِ الدِّين والرأي أغْلبَ للرجال ذوي الأمر على أُمورهم، مِن النساء" قالوا: وما نَقْصُ دينِهنّ ورأيِهنّ؟ قال: "أمَّا نَقْصُ رأيهِن، فجُعلَت شهادةُ امرأتَين بشهادة رجلٍ، وأما نَقْصُ دينِهِنّ، فإنَّ إحداهن تقعُد ما شاء اللهُ من يومٍ وليلةٍ لا تَسجُدُ لله سجدةً" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2772 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2772 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو خواہ اپنے زیورات ہی میں سے کیوں نہ ہو، کیونکہ تم جہنم والوں میں اکثریت میں ہو“، تو ایک خاتون نے جو بڑے طبقے سے نہیں تھی عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم جہنم والوں میں اکثریت میں کیوں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس لیے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ اور میں نے دین اور عقل میں ناقص ہونے کے باوجود (تم سے زیادہ) کسی کو بااثر مردوں کی عقلوں پر غالب آنے والا نہیں دیکھا“، لوگوں نے پوچھا: ان کے دین اور عقل کا نقصان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک عقل کے نقصان کا تعلق ہے تو دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر قرار دی گئی ہے، اور دین کا نقصان یہ ہے کہ تم میں سے کوئی عورت کئی دن اور راتیں ایسی گزارتی ہے کہ اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہیں کرتی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلّام، عن جدِّه، قال: كتب معاويةُ إلى عبد الرحمن بن شِبْل: أَنْ عَلِّمِ الناسَ ما سمعتَ من رسول الله ﷺ، فقال: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إِنَّ الفُسّاق هم أهلُ النار" قالوا: يا رسول الله، ومَن الفُسّاق؟ قال: "النساءُ" قالوا: يا رسول الله، ألسنَ أمهاتِنا وبناتِنا وأخواتِنا؟ قال: "بلى، ولكنهنَّ إذا أُعطِينَ لم يَشكُرنَ، وإذا ابتُلِينَ لم يَصبِرنَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2773 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2773 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً فساق ہی جہنم والے ہیں“، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فساق کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورتیں“، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ ہماری مائیں، بیٹیاں اور بہنیں نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں (وہ ہیں تو سہی)، لیکن ان کا حال یہ ہے کہ جب انہیں دیا جائے تو وہ شکر نہیں کرتیں اور جب انہیں کسی آزمائش میں ڈالا جائے تو وہ صبر نہیں کرتیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن إياس بن عبد الله ابن أبي ذُباب، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تضرِبُوا إماءَ الله" فجاء عمرُ إلى النبي ﷺ، فقال: يا رسول الله، قد ذَئِرنَ النساءُ على أزواجهنّ، فأَذِنَ رسولُ الله ﷺ أن يَضربوهنّ، قال: فأطافَ بآل محمد ﷺ سبعون امرأةً، كلُّهن يشتَكين أزواجَهنَّ، فقال رسول الله ﷺ: "ليس (1) أولئك خِيارَكم" (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أم كُلثوم بنت أبي بكر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2774 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2774 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو مت مارو“، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: عورتیں اپنے شوہروں پر شیر ہو گئی ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں (تادیباً) مارنے کی اجازت دے دی، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے گرد ستر عورتیں جمع ہو گئیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کر رہی تھیں، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لوگ (جو عورتوں کو مارتے ہیں) تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی ایک شاہد روایت ام کلثوم بنت ابی بکر کی سند سے بھی صحیح ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی ایک شاہد روایت ام کلثوم بنت ابی بکر کی سند سے بھی صحیح ہے۔
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلمي، حدثنا سعيد بن كَثير بن عُفَير وسعيد بن أبي مريم، قالا: حدثنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن حُميد بن نافع، عن أم كُلثوم بنت أبي بكر، قالت: كان الرجالُ نُهوا عن ضَرْب النساءِ، ثم شَكَوهُنَّ إِلى رسول الله ﷺ، فخلَّى بينهم وبين ضربِهنَّ (3)، ثم قال: "لقد أطافَ الليلةَ بآل محمد ﷺ سبعونَ امرأةً كلُّهن قد ضُربتْ". قال يحيى: وحسبتُ أنَّ القاسم قال: ثم قيل لهم بعدُ: "ولن يَضربَ خِيارُكم" (1).
حافظ طلحہ بابر
ام کلثوم بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مردوں کو عورتوں کو مارنے سے منع کیا گیا تھا، پھر مردوں نے رسول اللہ ﷺ سے عورتوں کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے انہیں مارنے کی رخصت دے دی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج رات محمد ﷺ کے گھر والوں کے گرد ستر عورتیں اکٹھی ہوئی ہیں جن سب کو مارا گیا ہے“، یحییٰ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ قاسم نے یہ بھی کہا کہ اس کے بعد ان سے کہہ دیا گیا: ”تم میں سے بہتر لوگ کبھی نہیں ماریں گے۔“