حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن إياس بن عبد الله بن أبي ذُبَاب، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تَضرِبُوا إماءَ اللهِ". فجاء عمرُ إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، ذَئِرنَ النساءُ على أزواجهنّ. فرَخَّص في ضَرْبهن، فأطافَ بآلِ رسول الله ﷺ نساءٌ كثيرٌ يَشكين أزواجَهُنَّ، فقال النبي ﷺ: "لقد طافَ بآلِ محمدٍ نساءٌ كثيرٌ يَشكين أزواجَهُنَّ، ليس أُولائك بخِيارِكم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2765 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2765 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں (عورتوں) کو مت مارو۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عورتیں تو اپنے شوہروں پر شیر (دلیر) ہو گئی ہیں، چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں (تادیباً) مارنے کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد بہت سی خواتین نے رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کا گھیراؤ کر لیا جو اپنے شوہروں کی شکایت کر رہی تھیں، تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً محمد ﷺ کے گھر والوں کے گرد بہت سی عورتیں جمع ہوئی ہیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کر رہی ہیں، (یاد رکھو!) وہ لوگ (جو اپنی عورتوں کو مارتے ہیں) تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، حدثني مُسلم بن خالد، عن موسى بن عُقبة، عن أمِّه، عن أم كُلْثوم بنت أبي سَلَمة، قالت: لما تزوج رسولُ الله ﷺ أمَّ سلَمة، قال لها: "إني أَهدَيتُ إلى النَّجَاشيِّ أَواقيَّ (1) من مِسكٍ وحُلَّةً، وإني لا أُراه إلا قد ماتَ، ولا أُرى الهديةَ التي أَهدَيتُ إليه إلّا سَتُردُّ، فإذا رُدَّت إليَّ فهو لكِ - أو لكم (2) -"، فكان كما قال، هَلَكَ النجَاشيُّ، فلما رُدّت إليه الهديةُ، أعطى كلَّ امرأةٍ من نسائه أوقيّةً من ذلك المِسك، وأعطى سائرَه أمَّ سلَمةَ وأعطاها الحُلَّة (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2766 - منكر ومسلم الزنجي ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2766 - منكر ومسلم الزنجي ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام کلثوم بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تو ان سے ارشاد فرمایا: ”میں نے نجاشی کی طرف کستوری کے کچھ اوقیے اور ایک حلہ (لباس) بطور ہدیہ بھیجا ہے، اور میرا خیال یہی ہے کہ وہ وفات پا چکا ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ میرا بھیجا ہوا وہ ہدیہ واپس آ جائے گا، پس اگر وہ مجھے واپس مل گیا تو وہ تمہارے لیے (یا تم سب کے لیے) ہوگا۔“ پھر ویسا ہی ہوا جیسا آپ ﷺ نے فرمایا تھا، نجاشی کا انتقال ہو گیا، اور جب آپ ﷺ کو وہ ہدیہ واپس ملا تو آپ ﷺ نے اپنی ہر زوجہ مطہرہ کو اس کستوری میں سے ایک ایک اوقیہ عطا فرمایا اور بقیہ کستوری اور وہ حلہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب الفرّاء، أخبرنا جعفر بن عَوْن، حدثنا ربيعة بن عثمان، عن محمد بن يحيى بن حَبّان، عن نَهار العَبْدي - وكان من أصحاب أبي سعيد الخُدْري - عن أبي سعيد الخُدْري، قال: جاء رجلٌ إلى النبيّ ﷺ بابنةٍ له، فقال: يا رسول الله، هذه ابنتي قد أبَتْ أن تَزَوَّجَ، فقال لها النبي ﷺ: "أَطِيعي أباكِ" فقالت: والذي بعثك بالحقّ لا أتزوَّجُ حتى تُخبرني ما حقُّ الزوج على زوجتِه، قال: "حقُّ الزوج على زوجته أن لو كانت به قُرْحةٌ فَلَحِسَتْها ما أدَّتْ حقَّه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2767 - بل منكر قال أبو حاتم ربيعة منكر الحديث
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2767 - بل منكر قال أبو حاتم ربيعة منكر الحديث
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کو لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری یہ بیٹی نکاح کرنے سے انکار کرتی ہے، تو نبی کریم ﷺ نے اس لڑکی سے فرمایا: ”اپنے والد کی اطاعت کرو۔“ اس نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں اس وقت تک نکاح نہیں کروں گی جب تک آپ مجھے یہ نہ بتا دیں کہ بیوی پر شوہر کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شوہر کا اپنی بیوی پر یہ حق ہے کہ اگر اس کے جسم پر کوئی زخم (پھوڑا) ہو اور وہ اسے چاٹ بھی لے تو تب بھی اس کا حق ادا نہ ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔