کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سب سے بابرکت عورت وہ ہے جس کا مہر کم ہو
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا عفّان، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرني عمر بن طُفيل بن سَخْبرة المدني، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، أنَّ النبي ﷺ قال: "أعظمُ النساء بَرَكةً أيسَرُهنَّ صَدَاقًا" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2732 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں میں سب سے زیادہ بابرکت وہ ہے جس کا مہر سب سے زیادہ آسان (اور کم) ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2767
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إن شاء الله. ابن طُفيل بن سَخْبرة، قال عنه ابن معين في رواية عبد الله بن أحمد بن حنبل وابن الجُنيد والعباس الدوري: هو عيسى بن ميمون الجُرَشي المكي، وهو الذي يسميه حمادُ بنُ سلمة ابنَ سَخْبرة، وهو الذي يقال له: ابن تَليدان، وهو من ولد أبي قحافة، وهو ...» [ترقيم الرساله 2767] [ترقيم الشركة 2748] [ترقيم العلميه 2732]
أخبرني محمد بن عبد الله بن قُريش، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو ثَوْر، حدثنا إبراهيم بن خالد الصنعاني، حدثنا عبد الله بن مصعب بن ثابت، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: زَوَّج رسول الله ﷺ رجلًا امرأةً بخاتم من حديد فَصُّهُ فِضّةٌ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2733 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کا نکاح ایک عورت سے لوہے کی ایسی انگوٹھی کے عوض کروا دیا جس کا نگینہ چاندی کا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2768
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بهذه السياقة
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بهذه السياقة، عبد الله بن مصعب بن ثابت، قال عنه ابن معين: ضعيف الحديث، لم يكن عنده كتاب إنما كان يحفظ. قلنا: وانظر كلامنا عليه عند حديثه الآتي برقم (4657)، أما هنا فقد أخطأ في رواية هذا الحديث، وخالفه الثقات من أصحاب أبي حازم - وهو سلمة بن ...» [ترقيم الرساله 2768] [ترقيم الشركة 2749] [ترقيم العلميه 2733]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت البُناني، حدثني عمر بن أبي سلمة، عن أمه أم سَلَمة، قالت: قال رسول الله ﷺ: "مَن أصابَه مُصيبةٌ فليقُل: إنا لله وإنا إليه راجعون، اللهم عندك أحتسِبُ مُصيبتي، فأْجُرْنِي فيها وأَبدِلْني خيرًا منها"، فلما مات أبو سلمة قُلتُها، فجعلتُ كلّما بلغتُ أبدِلْني بها خيرًا منها، قلت في نفسي: ومَن خيرٌ من أبي سلمة؟! ثم قلتُها. فلما انقَضَت عِدّتُها بعثَ إليها رسولُ الله ﷺ عمرَ بنَ الخطاب يَخطُبها عليه، فقالت لابنها: يا عمرُ، قم فزَوِّجْ رسولَ الله ﷺ، فزوَّجَه، فكان رسولُ الله ﷺ يأتيها ليدخُلَ بها، فإذا رأتْه أخذت ابنتَها زينبَ فجعلتْها في حَجْرها، فيَنقلِبُ رسولُ الله ﷺ، فعَلِمَ بذلك عمارُ بن ياسر، وكان أخاها من الرَّضاعة، فجاء إليها، فقال: أين هذه المَقبُوحة المَنبُوحة التي قد آذتْ رسولَ الله ﷺ، فأخذها فذهب بها، فجاءَها (1) رسولُ الله ﷺ فدخل عليها، فجعلَ يَضرِبُ ببصره في جوانب البيت، فقال: "ما فعلتْ زُنابُ؟ " قالت: جاء عمارٌ فأخذها فذهب بها. فبَنَى بها رسولُ الله ﷺ، وقال: "إني لا أنقُصُكِ شيئًا مما أعطيتُ فلانةَ: رَحَاءَينِ وجَرَّتين ومِرفَقةً حَشْوُها لِيفٌ"، وقال: "إن سَبَّعتُ لكِ، سَبَّعتُ لنسائي" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2734 - على شرط النسائي
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے کوئی مصیبت پہنچے تو اسے یہ کہنا چاہیے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي خَيْرًا مِنْهَا» ”بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے، اے اللہ! میں اپنی اس مصیبت پر تیرے پاس اجر کی امید رکھتی ہوں، پس تو مجھے اس میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہتر نعم البدل عطا فرما۔““ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے یہ کلمات کہے، مگر جب میں اس حصے پر پہنچتی کہ ”مجھے اس کا بہتر نعم البدل عطا فرما“ تو میں اپنے جی میں کہتی: ابوسلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟! پھر بھی میں نے اسے پڑھ لیا۔ جب ان کی عدت مکمل ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف پیغامِ نکاح دے کر بھیجا۔ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے عمر! اٹھو اور رسول اللہ ﷺ سے میرا نکاح کر دو، چنانچہ انہوں نے نکاح کر دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لاتے تاکہ ان کے پاس قیام فرمائیں، مگر جب وہ آپ ﷺ کو دیکھتیں تو اپنی صاحبزادی زینب کو اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتیں، جس پر رسول اللہ ﷺ (حیا کی وجہ سے) واپس تشریف لے جاتے۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا، وہ ان کے رضاعی بھائی تھے، تو وہ تشریف لائے اور کہا: یہ منحوس بچی کہاں ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کو (راستے سے) روک رکھا ہے؟ پھر وہ اسے اٹھا کر لے گئے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے گھر کے گوشوں میں نظر دوڑائی اور پوچھا: ”زُناب (ننھی زینب) کہاں ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ عمار اسے لے گئے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ خلوت فرمائی اور ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں دینے والے مہر میں اس سے کوئی کمی نہیں کروں گا جو میں نے فلاں (بیوی) کو دیا تھا، یعنی: دو چکیاں، دو مٹکے اور ایک چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی ہے“، اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اگر میں تمہارے پاس سات دن قیام کروں گا تو پھر مجھے اپنی تمام بیویوں کے پاس بھی سات سات دن ہی قیام کرنا ہوگا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2769
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن الصحيح في رواية يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة ذكرُ ابن عمر بن أبي سلمة بين ثابت وعمر بن أبي سلمة، فقد رواه كذلك عنه أحمد 44/ (26697)، ومحمد بن إسماعيل ابن عُليَّة عند النسائي (10843)، ويعقوب بن إبراهيم الدَّورقي عند ابن ...» [ترقيم الرساله 2769] [ترقيم الشركة 2750] [ترقيم العلميه 2734]