کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: یتیم لڑکی سے اس کے معاملے میں اجازت لی جائے
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بُردة، عن أبي موسى سَمِعَ النبيَّ ﷺ يقول: "تُستأمَرُ اليتيمةُ في نفسها، فإن سَكَتَت فهو رضاها، وإن كَرِهَتْ، فلا كُرْهَ عليها" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2702 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”یتیم لڑکی سے اس کے نفس (نکاح) کے بارے میں مشورہ کیا جائے گا، اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی رضا مندی ہے، اور اگر وہ ناپسند کرے تو اس پر کوئی زبردستی نہیں کی جائے گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2735
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.» [ترقيم الرساله 2735] [ترقيم الشركة 2717] [ترقيم العلميه 2702]
أخبرَناه الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا محمد بن عمرو. وحدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا المعتمِر، قال: سمعت محمد بن عمرو يُحدّث عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال: "تُستأمَرُ اليتيمةُ في نفسها، فإن سَكَتَت فهو رضاها، وإن أبَتْ فلا جَوازَ عليها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یتیم لڑکی سے اس کے نفس (نکاح) کے بارے میں مشورہ لیا جائے گا، اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی رضا مندی ہے، اور اگر وہ انکار کر دے تو اس پر (زبردستی نکاح) جائز نہیں ہوگا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2736
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي.» [ترقيم الرساله 2736]