کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: خبردار! حد لگے ہوئے زانی کا نکاح اسی جیسی عورت سے ہوگا
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا علي بنُ الحسن الهِلالي، حدثنا أبو مَعمَر، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن حَبيب المعلِّم، عن عمرو بن شعيب. قال أبو مَعمَر: وقد حدَّثَناه حَبيبٌ المعلّم، عن عمرو بن شعيب، عن سعيد المقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يَنكِحُ الزاني المجلودُ إلّا مثلَه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2700 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2700 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس زانی کو کوڑے لگائے گئے ہوں وہ اپنے جیسے (زانی) سے ہی نکاح کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثني عبيد الله بن الأخْنَس، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده: أنَّ مَرثَد بن أبي مَرثَد الغَنَوي كان يَحمِل الأُسارى بمكة، وكان بمكة بَغِيٌّ يقال لها: عَنَاقٌ، وكانت صديقتَه، قال: فجئتُ النبيَّ ﷺ فقلتُ: يا رسولَ الله، أنكِحُ عَنَاقًا؟ قال: فسكت عنّي، فنزلت: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [النور: 3]، فقرأه عليَّ رسول الله ﷺ، وقال: "لا تَنكِحْها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2701 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2701 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ مکہ سے قیدیوں کو (مدینہ) لے جایا کرتے تھے، مکہ میں ”عناق“ نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی دوست تھی، مرثد کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں عناق سے نکاح کر لوں؟ آپ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے، اور زانیہ سے نکاح نہیں کرتا مگر زانی یا مشرک، اور یہ مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔“ [سورة النور: 3] پس رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت مجھے پڑھ کر سنائی اور فرمایا: ”اس سے نکاح نہ کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔