کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: مومن کی بزرگی اس کا دین ہے، اس کی شرافت اس کی عقل ہے اور اس کا حسب اس کا اخلاق ہے
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحَسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى الفرّاء، حدثنا مسلم بن خالد، حدثنا العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "كَرَمُ المؤمن دينُه، ومُروءتُه عقلُه، وحَسَبُه خُلُقُه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2691 - الزنجي ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کا کرم (عزت و وقار) اس کا دین ہے، اس کی مروت اس کی عقل ہے، اور اس کا حسب (خاندانی کمال) اس کا حسنِ اخلاق ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2724
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وقد سلف برقم (430) من طريقين عن مسلم بن خالد الزنجي.» [ترقيم الرساله 2724] [ترقيم الشركة 2706] [ترقيم العلميه 2691]
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا هاشم بن يونس العَصّار بمصر، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، حدثني عبد الرحمن ابن خالد - هو ابن مُسافِر - عن ابن شِهاب، عن عُرْوة بن الزُّبَير وعَمْرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة: أنَّ أبا حذيفة بن عُتْبة بن ربيعة بن عبد شمس - وكان ممَّن شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ تبنَّى سالمًا وأنكَحَه ابنةَ أخيه هندَ بنت الوليد بن عُتبة بن ربيعة بن عبد شمس - وكان ممَّن شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ (1) وهو مولًى لامرأة من الأنصار، فتبنّاهُ كما تبنَّى رسولُ الله ﷺ زيدًا، فكان من تبنّى رجلًا في الجاهلية، دعاه الناس إليه، ووَرِثَ من ميراثه، حتى أنزل الله في ذلك: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ [الأحزاب: 5]، فرُدُّوا إلى آبائهم، فمن لم يُعلَم له أبٌ، كان مولاهُ أو أخاهُ في الدِّين. قالت عائشة: وإِنَّ سَهْلة بنت سُهيل بن عمرو القرشي ثم العامري - وكانت تحت أبي حذيفة بن عُتبة بن ربيعة - جاءت رسولَ الله ﷺ حين أنزل الله ذلك، فقالت: يا رسول الله، إنا كنا نَرى سالمًا ولدًا - وكان رسول الله ﷺ قد آواه، فكان يأوي معه ومع أبي حذيفة في بيت واحد - ويَراني وأنا فُضُلٌ، وقد أُنزِلَ فيهم ما قد علمتَ، فما ترى في شأنه يا رسولَ الله؟ فقال لها رسول الله ﷺ: "أرضِعيهِ"، فأرضعته خمسَ رَضَعات، فحَرُم بهنّ، وكان بمنزلة ولدِها من الرَّضاعة (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وفيه أنَّ الشَّريفة تَزوَّجُ من كل مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2692 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ - جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک تھے - انہوں نے سالم کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا اور ان کا نکاح اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ سے کر دیا تھا - وہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے تھے - جبکہ سالم ایک انصاری خاتون کے آزاد کردہ غلام تھے، ابوحذیفہ نے انہیں اسی طرح بیٹا بنایا تھا جیسے رسول اللہ ﷺ نے سیدنا زید کو اپنا بیٹا بنایا تھا، پس جاہلیت میں جو کسی کو بیٹا بناتا تو لوگ اسے اسی کی طرف منسوب کرتے اور وہ اس کا وارث بنتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ ”ان کو ان کے باپوں کے نام سے پکارو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے، پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔“ [سورة الأحزاب: 5] تو وہ اپنے اصل باپوں کی طرف لوٹا دیے گئے، اور جس کا باپ معلوم نہ ہوتا وہ دینی بھائی یا آزاد کردہ غلام کہلاتا، سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو قرشی جو ابوحذیفہ بن عتبہ کے نکاح میں تھیں، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں جب یہ حکم نازل ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے - اور رسول اللہ ﷺ نے اسے پناہ دی تھی، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا تھا - اور وہ مجھے اس حال میں بھی دیکھتا تھا جب میں گھریلو (بے تکلف) لباس میں ہوتی تھی، اب ان کے متعلق جو حکم نازل ہوا وہ آپ جانتے ہیں، تو اے اللہ کے رسول! ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم اسے دودھ پلا دو“ پس انہوں نے اسے پانچ مرتبہ دودھ پلایا، جس سے وہ ان پر حرام ہو گیا اور وہ رضاعت کی وجہ سے ان کے بیٹے کے درجے میں آ گیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں یہ دلیل ہے کہ شریف خاندان کی عورت ہر مسلمان سے نکاح کر سکتی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2725
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن صالح، وقد ذكر الذهلي في "الزُّهْريات" - فيما نقله عنه الحافظ ابن حجر في "الفتح" 15/ 264 - أن ذكر عمرة غير محفوظ في إسناده.» [ترقيم الرساله 2725] [ترقيم الشركة 2707] [ترقيم العلميه 2692]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسَد بن موسى، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: يا بني بَيَاضةَ، أَنكِحُوا أبا هندٍ وانكِحُوا إليه". قال: وكان حجّامًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2693 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنو بياضہ! ابوہند کا (اپنی کسی خاتون سے) نکاح کر دو اور ان سے (اپنی شادی کے لیے) رشتہ لو۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ (ابوہند) پچھنے لگانے والے (حجام) تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2726
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي.» [ترقيم الرساله 2726] [ترقيم الشركة 2708] [ترقيم العلميه 2693]