کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جس نے اللہ کے لیے دیا، اللہ کے لیے روکا، اللہ کے لیے محبت کی، اللہ کے لیے نفرت کی اور اللہ کے لیے نکاح کیا اس نے ایمان کو مکمل کر لیا
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ وإبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم، قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، عن أبي مَرحُوم، عن سهل بن معاذ - وهو ابن أنس الجُهَني - عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن أعطى لله، ومَنَع لله، وأحبَّ لله، وأبغَضَ لله، وأنكَحَ لله، فقد استَكمَل إيمانَهُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2694 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن معاذ بن انس جہنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے لیے دیا، اللہ کے لیے روکا، اللہ کے لیے محبت کی، اللہ کے لیے بغض رکھا اور اللہ کی رضا کے لیے نکاح کیا، تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2727
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره دون قوله: "وأنكح لله"
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون قوله: "وأنكح لله"، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي مرحوم: وهو عبد الرحيم بن ميمون.» [ترقيم الرساله 2727] [ترقيم الشركة 2709] [ترقيم العلميه 2694]
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الحميد بن سليمان، حدثنا محمد بن عَجْلان، عن وَثِيمة النَّصْري (2)، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أتاكُم مَن تَرْضَوْنَ خُلُقَه ودِينَه، فأنكِحُوه، إلّا تفعَلُوا تَكُن فتنةٌ في الأرض وفَسادٌ عَريضٌ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص (نکاح کا پیغام لے کر) آئے جس کے اخلاق اور دین سے تم مطمئن ہو تو اس کا نکاح کر دو، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2728
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف عبد الحميد بن سليمان
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عبد الحميد بن سليمان، فإنه - وإن حسَّن الرأيَ فيه أحمدُ والبخاريُّ - قد ضعَّفه غيرهما من أهل النقد، وقال البخاري: ربما يهم في الشيء. قلنا: وقد وهم في وصل هذا الحديث، فقد خالفه الليث بن سعد الحافظ الحجة وعبد العزيز بن محمد الدَّرَاوَرْدي، وهو قوي الحديث، ...» [ترقيم الرساله 2728] [ترقيم الشركة 2710]